کتاب ”رنگیلہ رشی“ اور آریہ اخبارات

‘Rangila Rishi’ aur Arya Akhbarat

Paigham-e-Sulh (Pakistan), 15th March 1931 Issue (Vol. 19, No. 16, p. 3–4)

کچھ عرصہ ہوا ایک سناتنی پنڈت نے ”رنگیلا رشی“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے جس میں سوامی دیانند جی بانی آریہ سماج و مصنف ستیارتھ پرکاش کے حالاتِ زندگی اور تعلیمات پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ کتاب ہماری نظر سے نہیں گذری لیکن آریہ اخبارات کے بیان کے مطابق اِس میں سوامی جی اور آریہ سماج پر دل آزار اور غیر مہذبانہ طریق پر حملے کئے گئے ہیں جس سے آریہ سماجیوں کے جذبات بہت طرح مجروح ہوئے ہیں۔ اگر آریہ اخبارات کے بیان میں کچھ بھی صداقت ہے تو ہم اِس کتاب کے مصنف اور ذمہ دار سناتن دھرمی لیڈروں سے درخواست کریں گے کہ وہ امن امان اور تہذیب و اخلاق کی حفاظت کی خاطر آئندہ کے لئے اِس کتاب کی اشاعت و فروخت فوراً بند کر دیں کیوں کہ اِس قسم کی افسوس ناک تحریروں کا نتیجہ سوائے فتنہ و فساد کے اور کچھ نہ ہوگا۔ تمام مذاہب کی تعلیمات و عقائد پرمہذبانہ انداز میں اعتراضات و اظہارِ رائے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے لیکن بانیانِ مذاہب اور مذہبی پیشواؤں کی تذلیل و تحقیر ایک نامناسب فعل ہے، جس سے ہم سب کو احتراز کرنا چاہئے۔ یہی مشورہ ہم نے ہمیشہ آریہ سماجی اصحاب کو دیا ہے۔ اور یہی اُن کی تقلید کرنے والے سناتنی پنڈت جی دیتے ہیں۔ ہمارے سماجی دوستوں نے تا حال اِس مخلصانہ مشورہ پر عمل نہیں کیا۔ کاش اِن کے مقلد سناتنی پنڈت جی ہی اِس کو قبول کرلیں۔

Top