اداریہ:
انسان کے لئے کچھ نہیں مگر وہی جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے

Idariyah: Insan ke liye kuchh nahin magar wohi jis ke liye woh koshish karta hai

Paigham-e-Sulh (Pakistan), 31st March 1914 Issue (Vol. 1, No. 110, p. 1)

ایک بہت ہی قیمتی اور اعلیٰ درجہ کی بات جو اسلام اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کو سکھاتا ہے ۔ جس کو اختیار کرنے سے انسان دنیوی ہوں یا اُخروی ہر طرح کی کامیابیوں کو پاسکتا ہے او رجس کو پس پشت ڈالنے سے انسان ناکامیوں اور نامرادیوں سے کبھی بھی اپنا پیچھا نہیں چھڑوا سکتا ۔ قرآن مجید میں اس امر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ:

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪۴۰﴾ ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾

’’کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھاتااور کہ انسان کے لئے کچھ نہیں مگر وہی جو وہ کوشش کرتا ہے ۔ اور کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ‘‘۔ (النجم  38:53 تا 41)

قرآن کی ان آیات میں بیان کردہ اصول وہ زریں اصول ہے جس پر نہ صرف مذہب کا بلکہ دنیا کے تمام کاروبار کا مدار ہے ۔ کوئی فرد، کوئی قوم، کوئی جماعت ، کوئی معاشرہ اس اصول کو اختیار کرنے کے بغیر عہدہ برآنہیں ہوسکتا اور نہ ترقی کرسکتا ہے ۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھاتا اور انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کواختیار کرتا ہے اور کوشش رائیگاں نہیں جاتی ۔ نتیجہ ملتا بھی ضرور ہے اور نتیجہ ملتا بھی پورا پورا ہے ۔یعنی جو کوئی چاہتا ہے کہ اس کے لئے آخرت میں کوئی نتیجہ پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کوشش کرے ۔ جو شخص چاہتا ہے کہ اسے اس دنیامیں کچھ نتائج ملیں تو وہ بھی سعی اور جدوجہد کے بغیر اس کو نہیں پاسکتا۔ جو سالک چاہتا ہے کہ خدا کا وصال حاصل ہوتو اس کو بھی دعائوں اور عبادات کو اختیار کرنا ہوگا غرض یہ فطرت کا ایسا پختہ اور محکم اصول ہے کہ کوئی انسان یا قوم اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے تحت انسان کی بنیادی ضروریات کو اس کے وجود میں آنے سے پہلے ہی مہیا کردیا ہے اور ان چیزوں سے اپنی سعی و کوشش سے مزید نتائج پیدا کرنا اللہ نے انسان کے اوپر ڈال دیا ہے ۔ مثلاً ہوا اور پانی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پیدا کردیا ہے مگر ان ہوائوں اور پانیوں سے اب جس قدر انسان کام لیتا ہے اسی قدر ان سے نتائج اور فوائد حاصل کرلیتا ہے ۔ اسی طرح اللہ نے اپنی صفت رحمان کے تحت قرآن جیسی عظیم المرتبت کتاب انسانوں کی رہنمائی کے لئے نازل فرمادی اب یہ ہماری ترقی اور کامیابی کا سامان ہمارے پاس موجود ہے جو اللہ نے اپنی رحمت سے ہمیں عطا کردیا ہے اب یہ ہم پر ہے کہ ہم کس قدر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ یعنی اس اصول سے ایک اصول یہ بھی نکلتا ہے کہ اللہ کی موہبت بھی اسی انسان کو فائدہ دیتی ہے جو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ عقیدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ نصب العین انسان کوکسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ قوت عمل سے پورا کام نہ لیا جائے ۔ دنیا کی تاریخ اور واقعات عالم بھی ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ نصب العین خواہ کیسا ہی بلند اور دل خوش کن ہو لیکن نتیجہ ہمیشہ محنت ، لگن اور کوشش ہی کی بدولت ظہور میں آتا ہے ۔ بحیثیت قوم اگر مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے تو قوم مسلم اسی وجہ سے ادبار کا شکار ہے کہ عمل سے عاری اور تہی دست ہے ۔ آج دنیا کی تمام قومیں علم و عمل کے میدان میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ہر ممکنہ کوشش میں مصروف ہے۔ احمدی ہونے کے ناطے بھی آج ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ جیسے ہمارے اکابرین ترقی اور عروج کی جانب گامزن تھے کیا ہم بھی اسی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں یا اس ڈگر کو چھوڑ چکے ہیں ۔ احمدی ہونے سے ہم بہت سی علمی اور اعتقادی غلطیوں سے توبچ گئے ہیں لیکن ہم بھی اللہ تعالیٰ کے اس اٹل قانون سے باہر نہیں ۔ کوئی بوجھ اُٹھانے والا ہمارا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ اور ہمارے لئے وہی ہے جس کے لئے ہم کوشش کریں گے ۔ خدا ہماری کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ہم جو بھی کوشش کریں گے اس کا پورا پورا بدلہ ہمیں دیا جائے گا۔ ہمارا عقیدہ ، ہماری قابلیت ہی محض ہماری کامیابی اور فلاح کا ذریعہ نہیں ہوسکتی جب تک کہ کوشش اور کام کرنے کا نہ ٹوٹنے والا جذبہ ہمارے پاس نہ ہو ۔ اگر ہم بحیثیت احمدی دنیا اور آخرت میں سرخروہونا چاہتے ہیں تو ہمیں درست عقیدہ کے ساتھ ساتھ عمل ، جدوجہد، سعی اور دعا کی انتہائی ضرورت ہے ۔ یہی وہ صورت ہے جس کے ذریعہ ہم کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں ۔

Top