صلوٰ ۃ کی افادیت (ماہرین طب کی تحقیق میں)
از: جسارت نذر رب
پیغامِ صلح (انٹرنیشنل)
احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام لاہور کا خصوصی ترجمان
۱ تا ۳۰ جون ۲۰۲۰ء (صفحہ ۲۰ تا ۲۱)
دماغ میں اربوں کھربوں خلیے کام کرتے ہیں۔ اور ان خلیوں میں ایک برقی رو دوڑتی رہتی ہے۔ اس برقی رو کے ذریعے انسانی خیالات شعور اور تحت الشعور میں گذرتے ہیں۔ دل ایک پمپ ہے جو خون کے خلیات کو آگے پیچھے کرتا ہے اور وہ بھی دماغ کے تابع ہے۔ دماغ کا ایک خانہ وہ ہے جس میں برقی رو ایک باریک فوٹو لیتی رہتی ہے اور محفوظ یا آگے تقسیم کرتی رہتی ہے۔ اور ایک خانہ وہ بھی ہے جس میں کچھ اہم باتیں ہوتی ہیں۔ جنہیں شعور نے نظر انداز کر دیا ہوتا ہے۔ وہ روحانی صلاحیت کے خانہ کا نام ہے کیونکہ اس میں خالق کی روح کا وہ حصہ ہوتا ہے جو مخلوق میں اپنے خالق سے ملنے کی اُمنگ و جذبہ رکھتا یا پیدا کرتا ہے اور زندگی اپنے اچھے بُرے معاملات میں رواں دواں رہتی ہے۔
صلوٰۃ روح اور جسم کے لئے ایک بہترین ورزش ہے۔ جس کی ادائیگی سے جملہ انسانی اعضاء کی تحریک ہوتی رہتی ہے بلکہ سستی انسانی جسم سے دور ہوجاتی ہے اور تندرستی صحت اور طاقت برقرار رہتی ہے۔ صلوٰۃ میں قیام، قعود، رکوع، سجدہ اور قعدہ کی مختلف حرکتیں ہوتی ہیں۔ جن میں انسان ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اپنی وضع بدلنے سے جسم کے اکثر جوڑ بھی حرکت کرتے رہتے ہیں۔ جسم کے اندر معدہ، آنتیں، آلات تنفس اور قناۃ غذا میں اندرونی حرکت سے ایک تغیر آجاتا ہے۔ سب سے پہلے نیت باندھتے وقت کہنی کے سامنے کے عضلات Flexors اور کندھے کے جوڑ کے عضلات استعمال ہوتے ہیں اور ان کی حرکت یا ورزش ہوجاتی ہے۔
جب انسان اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھاتا ہے تو بازوؤں، گردن کے پٹھوں اور شانے کے پٹھوں کی حرکت ہوجاتی ہے۔ دل کے مریضوں کے لئے ایسی ورزش بہت مفید ہے۔ جو نمازی سے نماز پڑھتے ہوئے خود بخود ہوجاتی ہے اور فالج کے خطرات سے محفوظ رکھتی ہے۔نمازی جب ہاتھ اُٹھا کر دونوں کانوں کی لو کے قریب لے جاتا ہے تو ایک مخصوص نہایت باریک برقی رو دماغ میں بھیجتی ہے اور دماغ کے اندر اس خانے کے خلیوں کو چارج کردیتی ہے۔ جس کو شعور نے نظر انداز کردیا تھا۔ یہ خلیے چارج ہوتے ہی دماغ میں روشنی کا ایک جھماکا ہوتا ہے جس سے تمام اعصاب متاثر ہوکر اس خانے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس میں روحانی صلاحیتیں مخفی رہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک تیز برقی رو دماغ سے ہاتھوں کی طرف چل پڑتی ہے۔نماز میں بایاں ہاتھ نیچے باندھا جاتا ہے اور دائیں ہاتھ سے اسے گرفت میں لیا جاتا ہے۔ دائیں حصے سے خاص کر جو شعائیں نکلتی ہیں وہ مثبت ہوتی ہیں۔ اور بائیں ہاتھ سے جو شعائیں نکلتی ہیں وہ مخفی ہوتی ہیں۔ انسانی اعضاء کے دائیں بائیں اطراف کی کیفیت اپنی اپنی ہیں۔ بہرحال! دائیں ہاتھ کی مثبت شعائیں بائیں ہاتھ سے منتقل ہوکر طاقت اور تحریک کا باعث بنتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان اپنی معمولات زندگی میں متوازن رہتا ہے اور پریشان نہیں ہوتا۔ مرد اپنے ہاتھ ناف سے نیچے باندھتا ہے۔
ان دونوں ہاتھوں سے مثبت اور منفی لہریں نکلتی ہیں۔ جن کے امتزاج سے ایک خاص اثر پیدا ہوتا ہے جو ناف کے ذریعہ نظام اعصاب تک پہنچتا ہے اور گردے غدو فوق الکیہ کو قوی کرنے کے ساتھ جنسی قوت کو بھی قوی اور محرک رکھتا ہے۔ عورتیں نیت کے بعد جب سینہ پر ہاتھ باندھتی ہیں تو ان کے دل میں صحت بخش حرارت منتقل ہوتی ہے اور وہ غدود نشو ونما پاتے ہیں جن پر بچوں کی غذا کا انحصار ہوتا ہے۔ نماز پڑھنے والی ماؤں کے دودھ میں ایک خاص تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ جدید سائنس کے مطابق عورتیں جب سینے پر ہاتھ رکھ کر ایک خاص مراقبہ کرتی ہیں تو ایک خاص قسم کی شعائیں پیدا ہوتی ہیں جو ہلکے نیلے یا سفید رنگ کی ہوتی ہیں اور جسم میں داخل اور خارج ہوتی رہتی ہیں اور جسم میں قوتِ مدافعت کو بڑھاتی ہیں۔ جس سے وہ سینے کے سرطان میں مبتلا نہیں ہوتیں۔
قیام میں جسم اور ساکن ہوجاتی ہے۔ اس حالت میں جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کا احوال یوں ہے۔ جب نمازی قرأت شروع کرتا ہے اور حضورؐ کے مطابق اتنی بلند آواز سے قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے کہ جس کو اس کے اپنے کان سن سکیں تو ان قرآنی الفاظ کے انوارات پورے جسم میں سرائیت کرجاتے ہیں جو کہ دفع امراض کے لئے اکسیر اعظم ہیں۔ قیام سے جسم کو سکون کی کیفیت حاصل ہوتی ہے۔ نمازی چونکہ قیام کے دوران قرآن پاک کی تلاوت کررہا ہوتا ہے اس لئے اس کا جسم ایک نور کے حلقے میں مسلسل لپٹا رہتاہے۔ اور جب تک وہ اس حالت میں ہوتا ہے اس وقت تک نور کی غیر مرئی شعائیں اس کا احاطہ کئے رہتی ہیں۔
قیام میں نمازی جس حالت میں ہوتا ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ پنتالیس (45) منٹ تک اس حالت میں کھڑا رہے تو دماغ اور اعصاب میں زبردست قوت پیدا ہوجاتی ہے اور ایک ایسے مرض سے بچا رہتا ہے جس سے وہ اپنا توازان درست نہیں رکھ سکتا۔
رکوع کی حالت میں کمر کو جھکا کر ہاتھوں کو گھٹنوں پر ٹیکا جاتا ہے اس میں کولھے کے جوڑ میں جھکاؤ ہوتا ہے۔ کہنیاں سیدھی کھینچنی ہوتی ہیں اور کلائی بھی سیدھی ہوتی ہے اور تمام پٹھے چست حالت میں رہتے ہیں جبکہ پیٹ اور کمر کے پٹھے جھکتے اور سیدھے کام کرتے ہیں۔ اس طرح رکوع سے متعدد اعضاء کی حرکت یا ورزش ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹرز رکوع اور سجدہ کو گھٹنوں و کمر درد کے مریضوں کا بہترین علاج قرار دیتے ہیں۔ رکوع سے حرام مغز کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ مریض جن کے اعضاء سن ہوجاتے ہیں وہ اس مرض سے بہت جلد افاقہ حاصل کرلیتے ہیں۔ مزید رکوع سے کمر درد کے مریض یا ایسے مریض جن کے حرام مغز میں ورم ہوگیا ہو وہ بہت جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ رکوع سے گردوں میں پتھری بننے کا عمل بھی سست پڑجاتا ہے اور ٹانگوں کے فالج زدہ مریض چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ رکوع سے دماغ اور آنکھوں کی طرف دورانِ خون کے بہاؤ کی وجہ سے دماغ اور آنکھوں کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔
سجدہ میں کولھے، گھٹنے، ٹخنے اور کہنیوں پر جھکاؤ ہوتا ہے جبکہ ٹانگوں اور رانوں کے پیچھے کے پٹھے اور کمر و شکم کے پٹھے کھینچے ہوئے ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کلائی کے پیچھے کے عضلات بھی کھینچے ہوئے ہوتے ہیں۔ سجدہ میں عورتوں کے لئے گھٹنوں کو چھاتی سے لگانا احسن ہے کیونکہ یہ بچہ دانی کے پیچھے گرنے کا بہترین عمل ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دماغ کو خون کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ رئیس العضاء ہے مگر اس کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ اس تک خون پہنچنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ بالخصوص اس وقت جب شریانیں بھی تنگ ہوں۔ سجدہ دماغ کو خون کی فراہمی کے لئے نہایت موزوں عمل ہے۔ دماغ عام حالت میں بیشتر وقت دل کے پمپ سے اونچا رہتا ہے۔ اس لئے دماغ میں خون کی سرائیت قدرے مشکل ہوتی ہے مگر سجدے میں دماغ دل سے نیچے ہوتا ہے اس لئے اس حالت میں اس کو خون بآسانی اور باافراط پہنچتا ہے۔ جتنا لمبا سجدہ ہوگا اتنا ہی زیادہ خون دماغ کو پہنچے گا چنانچہ نبی ؐ نے طویل سجدوں کی فضیلت فرمائی ہے۔ پس جو لوگ نماز کے عادی ہوجاتے ہیں ان کی عقل و فہم، یا داشت اور نفسیاتی صحت لمبی عمر تک درست رہتی ہے۔ کسی عمر میں بھی اللہ کریم کے حضور میں خلوص دل سے کئے ہوئے لمبے سجدے دماغی، نفسیاتی اور روحانی صحت کے لئے انتہائی مفید ہیں۔ اعضاء کو ایک ساتھ پھیلانا اور سمیٹنا موٹاپے کی تکلیفوں کو نہیں ہونے دیتا۔ سب سے بڑھ کر نمازی انسان کے چہرے پر تازگی رہتی ہے اور غیر نمازی کے چہرے پر ایک افسردگی چھائی رہتی ہے۔
قعدہ میں التحیات پڑھتے وقت جسم بیٹھنے کی حالت میں ہوتا ہے۔ گھٹنے اور کولھے پر جھکاؤ ہوتا ہے۔ ٹخنے اور پاؤں کے عضلات پیچھے کھینچے ہوئے ہوتے ہیں۔ کمر اور گردن کے پٹھے بھی کھنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سے ان عضلات کی ہلکی پھلکی ورزش ہوجاتی ہے۔ ورزش کا اصول ہے کہ سخت ورزش کے بعد کچھ توقف کیا جاتا ہے اور لمبے لمبے سانس لئے جاتے ہیں۔ یا ہلکی پھلکی ورزش کی جاتی ہے۔ نماز میں بھی رکوع اور سجدہ کے بعد قعدہ میں بیٹھنا اسی اصول کا اطلاق ہے۔ نمازی کو سلام پھیرنے کے لئے سردائیں بائیں کرنا پڑتا ہے۔ ایسا کرنے سے نمازی امراضِ قلب اور اس کی پیچیدگیوں سے ہمیشہ بچا رہتا ہے اور بہت کم امراض میں مبتلا ہوتا ہے۔ سلام پھیرتے وقت گردن کے دائیں بائیں پٹھے کام کرتے ہیں۔ یہ گردن کی بہترین ورزش ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرکت کرنے والا جسم عطا فرمایا ہے لہذا اس کی صحت صرف متحرک رہنے میں ہے اور نماز پنجگانا تحریک کا بہترین راستہ ہے۔ اس کے لئے وقفے وقفے سے نماز باجماعت کے لئے مسجد جانا ایک طرح کی دینی ورزش ہے۔
کیا اب بھی آپ کو نماز ی اور غیر نمازی میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا؟
’’بندے اور کفر کے درمیان مَدِّ فاصل ترک صلوٰۃ ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)

