اداریہ: مومنانہ اخلاق روحانی و جسمانی ترقی کے ضامن

پیغامِ صلح (انٹرنیشنل)

احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام لاہور کا خصوصی ترجمان

۱ تا ۳۰ جون ۲۰۲۰ء (صفحہ ۱)

یوں تو دنیا کا ہر کلمہ گو اپنے آپ کو حقیقی مومن ہی تصور کرتا ہے لیکن ایمان کی تکمیل یوں ہی نہیں ہوجاتی، اس کے لئے سعی وکوشش اور انتہائی محنت درکار ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ:

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ

’’دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔ کہو تم ایمان نہیں لائے لیکن کہو ہم اسلام لائے اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا‘‘ (الحجرات :14)

 یعنی صرف زبانی اقرار ایمان کو کامل نہیں کرتا بلکہ اس بیج کو نشوونما اعمال و اخلاق کی آبیاری سے ملتی ہے۔ انسان کی روحانی ترقیات کا تمام تر دارومدار ایمان پر ہے اور ایمان، اقرار و عمل کا امتزاج ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا کہ:

’’ایمان کی ستر اور کچھ یا ساٹھ اور کچھ شاخیں ہیں۔ سو ان میں افضل یہ قول ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ان میں سے کمتر رستہ سے ایذارساں چیزوں کا دور کردینا ہے اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

یہاں ایمان کی ستر یا ساٹھ شاخیں قرار دیں گویا ہر اچھے عمل کو ایمان قرار دیا ہے لیکن اس ایمان کی ابتداء دل سے ہوتی ہے اور اس کی معراج صفات حسنہ اور اعمال صالحہ کا پیدا ہوجانا ہے۔ایک حدیث میں آپؐ نے تینتیس (33) کے قریب مومن کی صفات بیان کی ہیں اگر ان مومنانہ اخلاق کو سامنے رکھ کر کوئی ایمان کی تکمیل کے لئے سعی کرے تو نہ صرف روحانی ترقیات کو حاصل کرسکتا ہے بلکہ دنیاوی فوذو فلاح بھی اس کے قدم چومتی ہے۔

ترجمہ: جندب بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ یقینا مومن کے اخلاق یہ ہیں:

(۱): دینی معاملات میں قوت و شوکت دکھائے۔ (۲): نرم برتاؤ میں مستقل مزاجی سے کام لے۔ (۳): یقین میں قوت ایمان نظر آئے۔ (۴): تحصیل علم  دلی شوق سے کرے۔ (۵):  رنجیدہ حالات میں شفقت سے کام لے۔ (۶):  تحصیل علم میں صبر و عقل سے کام لے۔ (۷): دولت میسر آئے تو میانہ روی سے خرچ کرے۔ (۸): مفلسی میں ضبط و برداشت دکھائے۔ (۹): طمع و لالچ سے اجتناب کرے۔ (۱۰):  روزی کسب حلال سے حاصل کرے۔ (۱۱): نیک کاموں میں استقامت دکھائے۔ (۱۲):  سلوک ہدایت میں خوشی و انبساط کے ساتھ چست و چالاک و تیز گام ہو۔ (۱۳):  شہوات نفسانی سے بچتا رہے۔ (۱۴): مصیبت زدہ پر رحم کرے۔ یقیناً مومن اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔ (۱۵): دشمن پر بھی ظلم نہیں کرت۔ (۱۶):  اپنے دوست پر کبھی الزام نہیں لگات۔ (۱۷): امانت میں خیانت نہیں کرتا۔ (۱۸):  حاسد نہیں ہوتا۔ (۱۹):  طعنہ زن نہیں ہوتا۔ (۲۰):  اور نہ ہی کسی پر (بے جا) لعنت کرتا ہے۔ (۲۱):  حق بات کی تائید میں سینہ سپر ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وہ بات اس کے سامنے وقوع پذیر ہوئی ہو۔ (۲۲): برے القاب سے کسی کو یاد نہیں کرتا۔ (۲۳): نماز میں خشوع و خضوع سے کھڑا ہوجاتا ہے۔ (۲۴): زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی میں جلدی کرتا ہے۔ (۲۵): مصائب و مشکلات کے زلزلوں میں کامل وقار سے رہتا ہے۔ (۲۶): آسودگی میں اللہ کے شکر سے اس کا دل لبریز ہوتا ہے۔ (۲۷): جو اس کے پاس ہو اس پر قانع رہتا ہے۔ (۲۸): وہ کبھی ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کرتا جو اس کی نہیں۔ (۲۹): وہ غیض و غضب سے مغلوب ہوکر جتھا بندی نہیں کرتا۔ (۳۰): فیاضانہ ارادوں سے روکنے کے لئے بخل اس پر غلبہ نہیں پاتا۔ (۳۱):  وہ لوگوں سے اس غرض سے ملاپ رکھتا ہے کہ ان کے حال سے خبردار رہے (دوسروں کی مددکے لئے)۔ (۳۲): وہ لوگوں سے گفتگو کرتا ہے کہ ان کے مدعا (مافی الضمیر) کو سمجھے۔ (۳۳): اگر اس پر ظلم و زیادتی ہو تو صبر کرتا ہے حتیٰ کہ نصرت رحمٰن اس کی دستگیری فرماتی ہے‘‘۔ (الفتح الکبیر فی ضمہ الذیادۃ الی جامع الصغیر للجلال الدین سیوطی)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان مومنانہ اخلاق کو ہمارے اندر پیدا فرمائے۔ آمین 

Top