اداریہ: وجود ِمحمدؐ فضل ِخدا
Idariyah: Wujud-e-Muhammad (saw) Fazl-e-Khuda
Paigham-e-Sulh (Pakistan), 1st to 30th September 2023 Issue (Vol. 8, Nos. 17–18, p. 1)
امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مسعود انسانیت کے لئے خدائے رحمٰن کا عظیم فضل و احسان ہے، آپ ؐ کی ذات تمام عالم کے لئے نوید جانفزا ہے۔ رحمت اللعالمین محمد صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت ہیں۔ ہم اللہ کا جنتا شکروحمد کریں کم ہے کہ ہماری نسبت اس خیرالبشر کی جانب ہے کہ ہم اس لاثانی و یکتا وجود کی غلامی کا دم بھرنے والے ہیں۔ آپؐکے وجود کی برکت سے اللہ کا دین ہم تک پہنچا اور ہم نے اپنے رب کو پہچانا۔ آپؐ ہی کی بدولت ہمیں نیکی اور بدی، گناہ اور ثواب ،اچھائی اور برائی کا ادراک ہوا، دنیا میں جینےکا سلیقہ اور آخرت کی زندگی کا شعور حاصل ہوا۔ آپؐ کی ذات انسانوں میں سب سے افضل، سب سے اعلیٰ ، سب سے ارفع اور کامل اور مکمل ہے۔ انسانیت کی معراج آپؐ کے وجود سے ہی عیاں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی سیرت میں زندگی کے ہر پہلو کے لئے رہنمائی رکھ دی ہے۔ کوئی بادشاہ ہو یا فقیر ، آقا ہو یا غلام ،معلم ہو یا متعلم، فاتح ہو یا مغلوب، حاکم ہو یا محکوم ہر ایک کے لئے آپؐ کی ذات مثل آفتاب ہے۔ آ پ ؐ رحمتہ اللعالمین، بلند اخلاق مبلغ، بے مثال فلسفی ، بہادر سپاہی، بے نظیر لیڈر ، شیرین کلام، رہبر اور باوصف کمانڈر تھے۔ حضرت محمد ؐ بہترین حکمران ، قائد اعظم اور کامیاب مصلح تھے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آپؐ یتیموں کے والی ، غلاموں کے مولیٰ، عورتوں کے پاسباں، بچوں کے رکھوالے، سنجیدہ عادل، لاثانی مفکر، بہترین باپ اور بے نظیر شوہر تھے۔ آپؐ کی ذات کے متعلق اہل الرائے متفق ہیں کہ تمام تر مذہبی شخصیات میں آپؐ کی شخصیت ممتاز اور کامیاب حیثیت رکھتی ہے۔ دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء آئے وہ خاص قوموں ،علاقوں اور مخصوص تعلیم کے ساتھ مبعوث ہوئے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عام اور عالم گیر تھی اسی لئے آپ ؐ جو پیغام لائے وہ بھی عالم گیر اور لاثانی حیثیت رکھتا ہے جو فطرت کے سانچے میں ایسا ڈھلا ہوا ہے کہ ہر عقل سلیم کے لئے مشعل راہ ہے۔ حضورؐ سے پہلے جو انبیاء آئے اُن کی نبوت کچھ عرصہ کے لیے رہی لیکن آقائے نامدار ؐ کی نبوت تاقیامت رہے گی اسی لئے آپؐ کو خاتم النبیین کا خطاب عطا کیا گیا۔ اب نہ تو کوئی نئی کتاب آسکتی ہے ،نہ نئی شریعت اور نہ نیا نبی ۔ اب کامیابی اور فلاح تک رسائی کا واحد ذریعہ محمد مصطفیؐ کی لائی ہوئی تعلیم کی پیروی اور اقداء ہے۔ جو کوئی خدا کا قرب پاتا ہے وہ محمدؐ کی غلامی سے پاتا ہے۔ جوآپؐ کے وجود کو چھوڑتا ہے وہ محروم رہتا ہے اور جو آپ ؐ کے دامن کو تھامتا ہے وہی فوذوفلاح کا مالک ٹھہرتا ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ پایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے پایا ۔ ہم بھی اگر خدا کے مقرب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے آگاہی پیدا کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔

