اسلام کیا ہے؟
یعنی
اُصولِ اسلام کی حقیقت بطور سوال و جواب

از
محمد منظور الہٰی

Islam

Islam kya Hai?

by Muhammad Manzur Ilahi

اسلام

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

نَحۡمَدُہٗ وَ نُصَلِّیۡ عَلیٰ رَسُوۡلِہِ الۡکَرِیۡمِ

سوال۔ آپ کون  ہیں؟

جواب۔ میں مسلمان ہوں۔

سوال۔ مسلمان کس کو کہتے ہیں؟

جواب۔ جو شخص دین ِ اسلام کی پیروی کرتا ہو اُس کو مسلمان کہتے ہیں۔

سوال۔  دین کے کیا معنی ہیں؟

جواب۔  دین کے معنی راستہ یا طریقہ کے ہیں۔

سوال۔ اسلام کے کیا معنی ہیں؟

جواب۔ اسلام کے معنی صلح،  سلامتی اور امن کے ہیں۔

سوال۔ آپ کے مذہب کا یہ نام کس نے رکھا؟

جواب۔ یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے ۔ جیسا کہ اس نے قرآن شریف میں فرمایا:

وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا  (المائدہ 5 : 3)

ترجمہ: اور تمہارا دین اسلام ہونے پر میں راضی ہوا۔

 اور دوسری جگہ فرمایا:

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ (اٰل عمرٰن 3 : 19)

ترجمہ: اور تمہارے لئے دینِ اسلام پسند کیا۔

تحقیقِ خدا کے نزدیک سچا دین اسلام ہے۔

سوال: آپ کے مذہب کا نام اسلام کیوں رکھا گیا؟

جواب: اس لیے کہ اس مذہب کی غرض دنیا میں صلح، امن اور سلامتی کو ترقی دیتا ہے؟

سوال: اسلام نے دنیا میں آ کر کس طرح صلح اور امن پھیلایا؟

جواب: اول، اس طرح کے اسلام نے انسانوں میں مساوات اور برابری کو قائم کیا۔ ہر ایک قسم کی ملکی، قومی اور ذات پات کے امتیاز کو مٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک بادشاہ کو ایک غلام کے پہلو بہ پہلو کھڑا کر دیا اور بزرگی کا معیار صرف نیکی کو قرار دیا۔

اِنَّ  اَکۡرَمَکُمۡ  عِنۡدَ اللّٰہِ  اَتۡقٰکُمۡ (الحجرٰت 49 : 13)

ترجمہ:  تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شریف وہ ہے جو سب سے پرہیزگار ہے۔

دوم، اسلام سے پہلے جتنے مذاہب اللہ تعالی کی طرف سے ہونے کے مدعی تھے، اُن تمام کے بزرگوں اور اُن کی کتابوں کو عزت سے یاد کرنے کا اپنے پیر اوؤں کو حکم دیا اور فرمایا:

وَ اِنۡ  مِّنۡ  اُمَّۃٍ   اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ  (فاطر 35 : 24)

 ترجمہ: کوئی اُمت نہیں گزری جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔

اس لیے ایک مسلمان جیسا اپنے ہادی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے اُسی طرح وہ حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، سری  رام چندر جی، سری کرشن جی، مہاتما بدھ اور کنفیوشس، زرتشت، وغیرہ بزرگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے نیک بندے مانتا ہے، حالانکہ دوسرے مذاہب صرف اپنے خاص  بزرگوں کو تو اچھا سمجھتے ہیں لیکن دوسرے مذاہب اور اُن دوسرے مذاہب اور اُن کے بزرگوں کو جھوٹا سمجھتے اور اُن کو بُرا کہتے ہیں۔ اس لئے صرف اسلام ہی میں شامل ہو کر دنیا میں  محبت اور آشتی پھیل سکتی ہے۔ دوسرے مذاہب انسان کو تنگ دلی اور تعصب کی تعلیم دیتے ہیں۔

سوال۔ کیا آپ کے مذہب کا نام محمدی نہیں؟

جواب۔ ہرگز نہیں۔ ہمارے مذہب کا نام اللہ تعالیٰ نے اسلام رکھا ہے، اور گو مذہبِ اسلام کی مکمل تعلیم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دنیا کو ملی، لیکن اسلام کے ضروری اصول پہلے نبی بھی سکھاتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے اسلام ایک قدیم مذہب ہے اور کسی خاص پیغمبر کے نام پر اسے نہیں پکارا گیا۔

شَرَعَ  لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ  اَوۡحَیۡنَاۤ  اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ  اِبۡرٰہِیۡمَ  وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی (الشورٰی 42 : 13)

 ترجمہ: تیری طرف وہی  دین وحی کیا گیا جو نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ و عیسیٰؑ  کا تھا۔

سوال۔ اگر دنیا کے بڑے بڑے مذاہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو اسلام میں اور ان میں فرق کیوں نظر آتا ہے؟

جواب۔ تمام بڑے بڑے مذاہب کی بنیاد الہامِ الٰہی پر ہے اور اُن سب کا سر چشمہ ایک ہی ہے۔ اسلام اور دیگر مذاہب میں فرق اس لئے نظر آتا ہے کہ عرصہ دراز گزر جانے کی وجہ سے دوسرے مذہبوں میں غلطیاں داخل ہو گئیں  اور سچ جھوٹ آپس میں مل گیا۔

فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ (البقرہ 2 : 79)

ترجمہ: افسوس ہے اُن لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔

اس لیئے اسلام نے آکر صحیح تعلیم کو ملاوٹ سے  علیٰحدہ کر دیا اور جو سچائیاں  پہلے بزرگوں نے مقامی یا زمانی مجبوریوں اور نوعِ انسان کی ابتدائی حالت ہونے کی وجہ سے کھول کر بیان نہیں کی تھیں، اسلام نے اُن کو پورے طور پر ظاہر کر دیا۔

سوال۔ کیا اسلام کے بعد اب کسی نئے مذہب کی ضرورت ہے؟

جواب۔ نہیں، کیوں کہ دنیا میں کوئی ایسی سچائی نہیں، جس کو اسلام نے بیان نہ کر دیا ہو۔ ہر ایک قسم کی روحانی، اخلاقی اور مادی ترقیات کے اصول اُس نے کھول کھول کر بیان کر دیئے ہیں۔ ایک معمولی انسان سے لے کر اعلیٰ  درجہ کے عقل مند انسان کے لئے اس میں مناسب ہدایات موجود ہیں۔

سوال۔ کیا اسلام آخری شریعت اور کامل ہدایت ہے؟

جواب۔بے شک!

اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا (المائدہ 5 : 3)

ترجمہ:  آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا ہے اور میں نے تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کیا ہے۔

اسلام چونکہ ہر پہلو سے مکمل ہے، اور اُس نے انسان کی دینی اور دنیاوی رہبری کا کوئی پہلو بغیر تکمیل کے نہیں چھوڑا، اس لئے اُس کے بعد کسی نئی شریعت اور ہدایت کی ضرورت نہیں۔

Top