ستارۂِ قیصرہ

از حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

Sitara-e Qaisra

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad of Qadian

الحمد للہ والمِنّہ
کہ
یہ رسالہ مبارکہ جس میں حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا
کی برکات کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ جناب ملکہ ممدوحہ کے
عہدِ عدالتِ مہد میں اور اُن کے نہایت روشن ستارہ کی
تاثیر سے انواع اقسام کی زمینی اور آسمانی برکتیں ظہور میں
آئی ہیں،منطبع ہوکر اِنہی وجوہ کی مناسبت سے نام اِس کا

ستارۂِ قیصرہ

رکھا گیا
اور یہ رَسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین
صاحب مالک مطبع کے چھپ کر ۲۴ اگست ۱۸۹۹ء کو
شائع ہوا

بحضور عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ
شہنشاہ ہندوستان و انگلستان
اَدَامَ اللہ اقبالہا

سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اِس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ و جلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔ اِس کے بعد اِس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام میرزا غلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر (۷۰)میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے، یہ عرض کرتاہے کہ اگرچہ اِس ملک کے عموماً تمام رہنے والوں کو بوجہ اُن آراموں کے جو حضور قیصرہ ہند کے عدل عام اور رعایا پروری اور دادگستری سے حاصل ہو رہے ہیں اور بوجہ اُن تدابیر امن عامہ اور تجاویز آسائش جمیع طبقات رعایا کے جو کروڑہا روپیہ کے خرچ اور بے انتہا فیاضی سے ظہور میں آئی ہیں۔ جناب ملکہ معظمہ دام اقبالہا سے بقدر اپنی فہم اور عقل اور شناخت احسان کے درجہ بدرجہ محبت اور دلی اطاعت ہے بجز بعض قلیل الوجود افراد کے جو میں گمان کرتا ہوں کہ درپردہ کچھ ایسے بھی ہیں جو وحشیوں اور درندوں کی طرح بسر کرتے ہیں لیکن اِس عاجز کو بوجہ اُس معرفت اور علم کے جو اِس گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کی نسبت مجھے حاصل ہے جس کو میں اپنے رسالہ (صفحہ۲) تحفہ قیصریہ میں مفصل لکھ چکا ہوں وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اِس کے معزّز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اُس اخلاص کا اندازہ بیان کرسکوں اُسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کرکے اور اُس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کرجناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اُس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرافرازی کا موجب ہوگا۔ اور اُس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک ِمشرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو اُن کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے۔ مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اِس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اُس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں، لہٰذا اِس حسنِ ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں، دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اُس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اِسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں، اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لئے جرأت کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے اور میرے پَردادا صاحب مرزا گل محمد اس قدر دانا اور (صفحہ۳) مدبر اور عالی ہمت اور نیک مزاج اور ملک داری کی خوبیوں سے موصوف تھے کہ جب دہلی کے چغتائی بادشاہوں کی سلطنت بباعثِ نالیاقتی اور عیاشی اور سستی اور کم ہمتی کے کمزور ہوگئی تو بعض وزراء اِس کوشش میں لگے تھے کہ مرزا صاحب موصوف کو جو تمام شرائط بیدار مغزی اور رعایا پروری کے اپنے اندر رکھتے تھے اورخاندان شاہی میں سے تھے دہلی کے تخت پر بٹھایا جائے،لیکن چونکہ چغتائی سلاطین کی قسمت اور عمر کا پیالہ لبریز ہو چکاتھا، اِس لئے یہ تجویز عام منظوری میں نہ آئی اور ہم پر سکھوں کے عہد میں بہت سی سختیاں ہوئیں اور ہمارے بزرگ تمام دیہات ریاست سے بے دخل کر دیئے گئے اور ایک ساعت بھی امن کی نہیں گذرتی تھی اور انگریزی سلطنت کے قدم مبارک کے آنے سے پہلے ہی ہماری تمام ریاست خاک میں مل چکی تھی اور صرف پانچ گاؤں باقی رہ گئے تھے اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضٰی مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے، انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے۔ اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اِس ملک پر دخل ہوگیا، تووہ اِس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا اُن کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جان نثار تھے۔ اِسی وجہ سے انہوں نے ایّامِ غدر ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے، اور وہ بعد اِس کے بھی ہمیشہ اِس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت اُن کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اِس گورنمنٹ کو مدد دیں اور اگر ۵۷ء کے غدرکا کچھ اور بھی طول ہوتا تووہ سو (۱۰۰) سوار تک اور بھی مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اِس طرح اُن کی زندگی گذری۔ اور پھر اُن کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب (صفحہ۴) کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اِس ملک اور نیز دوسرے بلادِ اسلامیہ میں اِس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اِس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اِس دولت کا شکر گذار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کرکے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملّاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اِس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اِس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اِس قدر خدمت کرکے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں اِس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اِس بات کا اقرار ہے کہ اِس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے۔اِس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اِس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اِس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شاملِ حال فرما اور اِس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔

میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اورخدمات اور دعوات گذارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اُس کاجواب نہ آتا بلکہ (صفحہ۵) ضرور آتا ضرور آتا۔ اِس لئے مجھے بوجہ اُس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پُررحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے اِس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اِس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اِس پُر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اِس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اِس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کرلیں اور رعیّت پروری کے رُو سے مجھے پُر رحمت جواب سے ممنون فرماویں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اِس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اِس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تاکہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔ ایسا ہی اُس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اِس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے اِس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے۔ اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں آسمانی آبپاشی سے اِس میں امداد فرماوے۔ سو اُس نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا آسمان سے مجھے بھیجا ہے تا میں اُس مرد ِخدا کے رنگ میں ہوکر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی، حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اُس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ کے پاک (صفحہ۶) اغراض کو خود آسمان سے مدد دے۔

اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچاوے۔ اِس وقت تیرے عہدِ سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے یہ گواہی ہے کہ تمام سلاطین میں سے تیرا وجود امن پسندی اورحسنِ انتظام اور ہمدردیِ رعایا اور عدل اور دادگستری میں بڑھ کر ہے۔ مسلمان اور عیسائی دونوں فریق اِس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح موعود آنے والا ہے مگر اُسی زمانہ اور عہد میں جبکہ بھیڑیا اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے۔سو اے ملکہ مبارکہ معظمہ قیصرہ ہند وہ تیرا ہی عہد اور تیرا ہی زمانہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جو تعصب سے خالی ہو وہ سمجھ لے۔ اے ملکہ معظمہ یہ تیرا ہی عہدِ سلطنت ہے جس نے درندوں اور غریب چرندوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔راستباز جو بچوں کی طرح ہیں وہ شریر سانپوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور تیرے پُرامن سایہ کے نیچے کچھ بھی اُن کو خوف نہیں۔ اب تیرے عہدِ سلطنت سے زیادہ پُرامن اور کون سا عہد ِسلطنت ہوگا جس میں مسیح موعود آئے گا؟ اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتاجاتا ہے، اِس لئے تیرے عہدِ سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہدِ سلطنت ایسانہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔ اے مبارک اور با اقبال ملکہِ زمان، جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے اُن کتابوں میں صریح تیرے پُرامن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں مگر ضرور تھا کہ اُسی طرح مسیح موعود دنیا میں آتا جیسا کہ ایلیا نبی یوحنّا کے لباس میں آیا تھا یعنی یوحنّا ہی اپنی خُو اور طبیعت سے خدا کے نزدیک ایلیا بن گیا۔ (صفحہ۷) سو اِس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ ایک کو تیرے بابرکت زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی خُو اور طبیعت دی گئی، اِس لئے وہ مسیح کہلایا، اور ضرور تھا کہ وہ آتا کیونکہ خدا کے پاک نوشتوں کا ٹلناممکن نہیں۔ اے ملکہ معظمہ اے تمام رعایا کی فخر یہ قدیم سے عادت اللہ ہے کہ جب شاہِ وقت نیک نیت اور رعایا کی بھلائی چاہنے والا ہو تو وہ جب اپنی طاقت کے موافق امنِ عامہ اور نیکی پھیلانے کے انتظام کرچکتا ہے اور رعیت کی اندرونی پاک تبدیلیوں کے لئے اُس کا دل دردمند ہوتا ہے تو آسمان پر اُس کی مدد کے لئے رحمتِ الٰہی جوش مارتی ہے اور اُس کی ہمت اورخواہش کے مطابق کوئی روحانی انسان زمین پر بھیجا جاتا ہے اور اُس کامل ریفارمر کے وجود کو اُس عادل بادشاہ کی نیک نیتی اور ہمت اور ہمدردیِ عامہ خلائق پیدا کرتی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے کہ جب ایک عادل بادشاہ ایک زمینی منّجی کی صورت میں پیدا ہوکر اپنی کمال ہمت اور ہمدردی بنی نوع کے رُو سے طبعاً ایک آسمانی منّجی کو چاہتا ہے۔ اِسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوا کیونکہ اُس وقت کا قیصر روم ایک نیک نیت انسان تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ زمین پر ظلم ہو اور انسانوں کی بھلائی اور نجات کا طالب تھا، تب آسمان کے خدا نے وہ روشنی بخشنے والا چاند ناصرہ کی زمین سے چڑھایا یعنی عیسٰی مسیحؑ، تا جیسا کہ ناصرہ کے لفظ کے معنے عبرانی میں طراوت اور تازگی اور سرسبزی ہے یہی حالت انسانوں کے دلوں میں پیدا کرے۔ سو اے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیرگاہ تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی اس قیصر روم سے کم نہیں ہے بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اُس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ تیری نظر کے نیچے جس قدر غریب رعایا ہے جس کی تو اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہمدردی کرنا چاہتی ہے اور جس طرح تو ہر ایک پہلو سے اپنی عاجز رعیت کی خیرخواہ ہے اور جس طرح تو نے اپنی خیر خواہی اور رعیت پروری کے نمونے دکھلائے ہیں، یہ کمالات اور برکات گذشتہ قیصروں میں سے کسی میں بھی نہیں پائے جاتے اِس لئے تیرے ہاتھ کے کام جو سراسر نیکی اور فیاضی سے (صفحہ۸) رنگین ہیں سب سے زیادہ اِس بات کو چاہتے ہیں کہ جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے اُسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹا وے۔ سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اوروہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا تا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ بپا کیا اور چونکہ اِس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کی تفریق کے لئے دنیا پر ایک آخری حُکم ہے جس کے رو سے مسیح موعود حَکَم کہلاتا ہے اِس لئے ناصرہ کی طرح جس میں تازگی اور سرسبزی کے زمانہ کی طرف اشارہ تھا اِس مسیح کے گاؤں کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا گیا تا قاضی کے لفظ سے خدا کے اُس آخری حَکَم کی طرف اشارہ ہو جس سے برگزیدوں کو دائمی فضل کی بشارت ملتی ہے اور تا مسیح موعود کا نام جو حَکَم ہے اِس کی طرف بھی ایک لطیف ایما ہو اور اسلام پور قاضی ماجھی اُس وقت اِس گاؤں کا نام رکھا گیا تھا جبکہ بابر بادشاہ کے عہد میں اِس ملک ماجھ کا ایک بڑا علاقہ حکومت کے طور پر میرے بزرگوں کو ملا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہ حکومت خود مختار ریاست بن گئی اور پھر کثرت استعمال سے قاضی کا لفظ قادی سے بدل گیا اور پھر اور بھی تغیر پا کر قادیاں ہوگیا۔ غرض ناصرہ اور اسلام پور قاضی کا لفظ ایک بڑے پُرمعنی نام ہیں جو ایک اُن میں سے رُوحانی سرسبزی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا روحانی فیصلہ پر جو مسیح موعود کا کام ہے۔ اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہدِ حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں (صفحہ۹) کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اُٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشکِ بہار بناویں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہدِ سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گذار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اِس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفّاظی سے اِس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دِلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دِل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آبِ رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہوکر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اُس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اُس رعایا پرہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پرہیزگاری اور نیک اخلاقی اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں اور ایک عیب عیسائیوںمیں ایسا ہے جس سے وہ سچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب اُن کو ایک ہونے نہیں دیتا بلکہ اُن میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اوروہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سراسر غلط ہیں کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اِس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کرکے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا اُنہوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اِس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہوگیا ہے اور ہزارہا مسلمانوں کے دل میری بائیس (۲۲) تیئیس (۲۳) سال کی کوششوں سے صاف ہوگئے ہیں لیکن اِس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے (صفحہ۱۰) ہیں گویا اُن لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اورجبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہرگز صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے جس کی اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اِس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اِس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔

دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں جو اُن کے زعم میں دنیا کو خون سے بھردے گا۔ حالانکہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔ ہماری معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کو ئی لڑائی نہیں کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ وہ تمام باتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خُو اور خُلق پر ہوگا اور اُن کے رنگ سے ایسا رنگین ہوگا کہ گویا ہُو بہو وہی ہوگا۔ یہ دو غلطیاں حال کے مسلمانوں میں ہیں جن کی وجہ سے اکثر اُن کے دوسری قوموں سے بغض رکھتے ہیں مگر مجھے خدا نے اِس لئے بھیجا ہے کہ اِن غلطیوں کو دُور کر دوں اور قاضی یا حَکَم کا لفظ جو مجھے عطاکیا گیا ہے وہ اِسی فیصلہ کے لئے ہے۔

اور اِن کے مقابل پر ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل شریف میں نور کہا گیا ہے نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لعن اور لعنت ایک لفظ عبرانی اورعربی میں مشترک ہے (صفحہ۱۱) جس کے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بکلّی برگشتہ اور دُور اور مہجور ہوکر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے جس طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے اور عرب اورعبرانی کے اہلِ زبان اِس بات پر متفق ہیں کہ ملعون یا لعنتی صرف اُسی حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اُس کا دل درحقیقت خدا سے تمام تعلقاتِ محبت اور معرفت اور اطاعت کے توڑ دے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے اور خدا اُس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اُس کادشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اِسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تجویز کرنا اور اُن کے پاک اور منوّر دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تاریک دل سے مشابہت دینا اوروہ جو بقول اُن کے خدا سے نکلا ہے اور وہ جو سراسر نور ہے اور وہ جو آسمان سے ہے اور وہ جو علم کا دروازہ اور خدا شناسی کی راہ اور خدا کا وارث ہے اُسی کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرنا کہ وہ لعنتی ہو کر یعنی خدا سے مردود ہو کر اور خدا کا دشمن ہو کر اور دل سیاہ ہو کر اور خدا سے برگشتہ ہو کر اور معرفت الٰہی سے نابینا ہو کر شیطان کا وارث بن گیا اور اُس لقب کا مستحق ہوگیا جو شیطان کے لئے خاص ہے یعنی لعنت۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اِس کے سننے سے دل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ کیا خدا کے مسیح کا دل خدا سے ایسا برگشتہ ہوگیا جیسے شیطان کا دل؟ کیا خدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا جس میں وہ خدا سے بیزار اور درحقیقت خدا کا دشمن ہو گیا؟ یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے۔ قریب ہے جو آسمان اِس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ غرض مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ خود خدا کے حق میں بداندیشی ہے۔ اگر یہ ممکن ہے کہ نور کے ہوتے ہی اندھیرا ہو جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ کسی وقت مسیح کے دِل نے لعنت کی زہرناک کیفیت اپنے اندر حاصل کی تھی۔ اگر انسانوں کی نجات اِسی بے ادبی پر موقوف ہے تو بہتر ہے کہ کسی کی بھی نجات نہ ہو کیونکہ تمام گنہگاروں کا مرنا بہ نسبت اِس بات کے اچھا (صفحہ۱۲) ہے کہ مسیح جیسے نور اور نورانی کو گمراہی کی تاریکی اور لعنت اور خدا کی عداوت کے گڑھے میں ڈوبنے والا قرار دیا جائے۔ سو میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ اصلاح پذیر ہو جائے۔ اور میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اِن دونوں ارادوں میں کامیاب کیا ہے۔ چونکہ میرے ساتھ آسمانی نشان اور خدا کے معجزات تھے اِس لئے مسلمانوں کے قائل کرنے کے لئے مجھے بہت تکلیف اُٹھانی نہیں پڑی اور ہزارہا مسلمان خدا کے عجیب اور فوق العادت نشانوں کو دیکھ کر میرے تابع ہو گئے اور وہ خطرناک عقائد اُنہوں نے چھوڑ دیئے جو وحشیانہ طور پر اُن کے دلوں میں تھے اور میرا گروہ ایک سچا خیرخواہ اِس گورنمنٹ کا بن گیا ہے جو برٹش انڈیا میں سب سے اوّل درجہ پر جوشِ اطاعت دل میں رکھتے ہیں جس سے مجھے بہت خوشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عیب دُور کرنے کے لئے خدا نے میری وہ مدد کی ہے جو میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں شکر کر سکوں اور وہ یہ ہے کہ بہت سے قطعی دلائل اور نہایت پختہ وجوہ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے اُس پاک نبی کو صلیب پر سے بچا لیا اور آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ مرکر بلکہ زندہ ہی قبر میں غشی کی حالت میں داخل کئے گئے اور پھر زندہ ہی قبر سے نکلے جیسا کہ آپ نے انجیل میں خود فرمایا تھا کہ میری حالت یونسؑ نبی کی حالت سے مشابہ ہوگی۔ آپ کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں کہ یونسؑ نبی کا معجزہ میں دکھلاؤں گا سو آپ نے یہ معجزہ دکھلایا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو انجیلوں سے ہمیں معلوم ہوتی ہیں لیکن اُس کے علاوہ ایک بڑی خوشخبری جو ہمیں ملی ہے وہ یہ ہے کہ دلائلِ قاطعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی قبر سرینگر کشمیر میں موجود ہے اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک کوہِ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر (صفحہ۱۳) میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سرینگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سرینگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے چنانچہ اِس بارے میں مَیں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں۔ یہ ایک بڑی فتح ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اِس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ یہ دو بزرگ قومیں عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو مدت سے بچھڑی ہوئی ہیں باہم شیروشکر ہو جائیں گی اور بہت سے نزاعوں کو خیرباد کہہ کر محبت اور دوستی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی چونکہ آسمان پر یہی ارادہ قرار پایا ہے اِس لئے ہماری گورنمنٹ انگریزی کو بھی قوموں کے اتفاق کی طرف بہت توجہ ہو گئی ہے جیسا کہ قانون سڈیشن کے بعض دفعات سے ظاہر ہے۔ اصل بھید یہ ہے کہ جو کچھ آسمان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تیاری ہوتی ہے زمین پر بھی ویسے ہی خیالات گورنمنٹ کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ غرض ہماری ملکہ معظمہ کی نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ پھر اُن کو دو قوم نہ کہا جائے۔

اب اِس کے بعد مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عقلمند یہ عقیدہ ہرگز نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت اُن کا دل لعنت کی زہرناک کیفیت سے رنگین ہو گیا تھا کیونکہ لعنت مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا۔ پس جب کہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی اُن دعاؤں کی برکت سے جو ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اُس منشاء کے موافق جو پلاطوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیحؑ کے بچاؤ کی سفارش کے لئے ظاہر ہوا تھا (حاشیہ نمبر ۱ دیکھیئے۔) اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اُس مثال کے موافق جو آپ نے یونسؑ نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اُس کے پھل سے جو لعنت ہے نجات بخشی اور آپ کی (صفحہ۱۴) یہ دردناک آواز کہ ایلی ایلی لما سبقتانی (حاشیہ ۲: ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔) جنابِ الٰہی میں سنی گئی۔ یہ وہ کھلا کھلا ثبوت ہے جس سے ہر ایک حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا۔ سو بلاشبہ یہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی برکات کا ایک پھل ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دامن کو تخمیناً انیس سو (۱۹۰۰) برس کی بیجا تہمت سے پاک کیا۔

(حاشیہ ۱: یہ بات کسی طرح قبول کے لائق نہیں اور اِس امر کو کسی دانشمند کا کانشنس قبول نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ ارادہ مصمّم ہو کہ مسیح کو پھانسی دے مگر اُس کا فرشتہ خواہ نخواہ مسیحؑ کے چھڑانے کے لئے تڑپتا پھرے۔ کبھی پلاطوس کے دل میں مسیحؑ کی محبت ڈالے اور اُس کے منہ سے یہ کہلاوے کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا اور کبھی پلاطوس کی بیوی کے پاس خواب میں جاوے اور اُس کو کہے کہ اگر یسوع مسیح پھانسی مل گیا تو پھر اِس میں تمہاری خیر نہیں ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ فرشتہ کا خدا سے اختلافِ رائے ۔ منہ۔)

اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اِس عریضہ نیاز کو طول دوں۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکرگزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں پورے طور پر میں اِس جوش کو ادا نہیں کرسکا ناچار دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے وہ آسمان پر سے اِس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور وہ فضل اُس کے شاملِ حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو آخرت کو ہو گی وہ بھی عطا فرماوے اور اِس کو خوش رکھے اور ابدی خوشی پانے کے لئے اِس کے لئے سامان مہیا کرے اور اپنے فرشتوں کو حکم کرے کہ تا اِس مبارک قدم ملکہ معظمہ کو کہ اِس قدر مخلوقات پر نظر رحم رکھنے والی ہے اپنے اُس الہام سے منوّر کریں جو بجلی کی چمک کی طرح ایک دم میں دل میں نازل ہوتا اور تمام صحن سینہ کو روشن کرتا اورفوق الخیال تبدیلی کر دیتا ہے۔ یا الٰہی ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ہمیشہ ہر ایک پہلو سے خوش رکھ اور ایسا کر کہ تیری طرف سے ایک بالائی طاقت اِس کو تیرے ہمیشہ کے نوروں کی طرف کھینچ کر لے جائے اور دائمی اور ابدی سرور میں داخل کرے کہ تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور سب کہیں کہ آمین۔

الملتمس
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان
ضلع گورداسپورہ۔پنجاب

۲۰ اگست ۱۸۹۹ء