قرآنِ کریم (قرآن مجید) کا اردو ترجمہ بمعہ عربی متن

از مولانا محمد علی

Urdu Translation of the Holy Quran

by Maulana Muhammad Ali

Surah 3: Āl Imran (Revealed at Madinah: 20 sections, 200 verses)

(3) سُوۡرَۃُ اٰلِ عِمۡرٰنَ مَدَنِیَّۃٌ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

اللہ بے انتہا رحم والے ، بار بار رحم کرنے والےکے نام سے

رکوع  1

الٓمَّٓ  ۙ﴿۱﴾

۱۔ میں اللہ کامل علم رکھنے والا ہوں۔

اللّٰہُ  لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾

۲۔ اللہ،  اس کےسوا کوئی معبود نہیں ہمیشہ زندہ خود قائم، قائم رکھنے والا ہے۔

نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ اَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾

۳۔  اس نے تجھ پرحق کےساتھ کتاب اتاری اس کی تصدیق کرتی ہوئی جو اس سے پہلے ہے  اور توریت اور انجیل کو۔

مِنۡ قَبۡلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ۬ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۴﴾

۴۔  لوگوں کو راہ دکھانے کے لیے پہلے سے نازل کیا اور حق و باطل میں فیصلہ اتارا۔  وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب سزا دینے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ  لَا  یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ  فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾

۵۔  یقیناً اللہ تعالیٰ  پر نہ زمین میں کوئی چیز چُھپی ہے اور نہ آسمان میں۔

ہُوَ  الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ  فِی الۡاَرۡحَامِ  کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶﴾

۶۔ وہی ہے جو تمہاری تصویریں رحموں میں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے اس کےسوا کوئی معبود نہیں، غالب حکمت والا ہے۔

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ  الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ  تَاۡوِیۡلَہٗۤ  اِلَّا اللّٰہُ  ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ  مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ  اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾

۷۔ وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اِس میں سے (کچھ)  محکم آیتیں ہیں جو کتاب کی اصل ہیں،  اور کچھ متشابہ ہیں۔  پھر جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ اُس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو اِس میں سے متشابہ ہے  فتنہ پیداکرنے کے لیے،  اور یہ چاہتے ہوئے کہ اس کی (من مانی) تاویل کریں۔  اور اس کی تاویل کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور ان کے جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور عقل والوں کے سوائے کوئی نصیحت قبول نہیں  کرتا۔

رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ  اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ ﴿۸﴾

۸۔ اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے  اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت کی اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما،  بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾

۹۔ اے ہمارے رَبّ! ضرور تو لوگوں کو اس دن کے لیے اکٹھا کرنے والا ہے جس میں کچھ شک نہیں بے شک اللہ وعدہ کاخلاف نہیں کرتا۔

رکوع 2

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ  وَ لَاۤ  اَوۡلَادُہُمۡ  مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ  وَقُوۡدُ  النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾

۱۰۔  جنہوں نے انکارکیا،  ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) کے سامنے ان کے کسی کام نہ آئے گی اور وہی آگ کا ایندھن ہیں۔

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ  کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۱﴾

۱۱۔  (ان کاحال) فرعون کے لوگوں اور ان کے حال کی طرح ہے  جو ان سے پہلے تھے ، انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا،  پس اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑا اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَ تُحۡشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۲﴾

۱۲۔جنہوں نے انکار کیا ان سے کہہ دے کہ تم جلد مغلوب کیے جاؤ گے  اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے  اور کیا ہی بُرا بچھونا ہے۔

قَدۡ کَانَ لَکُمۡ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اُخۡرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوۡنَہُمۡ مِّثۡلَیۡہِمۡ رَاۡیَ الۡعَیۡنِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً   لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۱۳﴾

۱۳۔ ان دو گروہوں میں جن کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی یقیناً تمہارے لیے نشان تھا۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑتاتھا،  اور دوسرا کافر تھا  وہ اُن کو ظاہر آنکھ سے اپنے سے دو چند دیکھتے۔ اور اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کو چاہے قوت دیتا ہے۔ بصیرت والوں کے لیے اس میں یقینی عبرت ہے۔

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ  الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ ﴿۱۴﴾

۱۴۔ لوگوں کو نفسانی خواہشوں کی محبّت بھلی معلوم ہوتی ہے (جیسے) عورتیں اور بیٹے اور ڈھیروں ڈھیر سونا اور چاندی اور پلے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی،  یہ اس وَرلی  زندگی کا سامان ہے اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔

قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ  تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ  بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾

۱۵۔ کہہ کیا میں تم کو اس سے اچھی بات بتاؤں،  اُن لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اُن کے رب کے پاس باغ ہیں،  جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں رہنے والے ہیں  اور پاک ساتھی اور اللہ کی رضامندی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾

۱۶۔ وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔  پس ہمارے گناہ بخش اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

اَلصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡمُنۡفِقِیۡنَ وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ ﴿۱۷﴾

۱۷۔ صبر کرنےو الے اور سچ کر دکھانے والے اور فرمانبردار اور خرچ کرنے والے اور صبح کے وقتوں میں استغفار کرنے والے۔

شَہِدَ اللّٰہُ  اَنَّہٗ  لَاۤ  اِلٰہَ  اِلَّا ہُوَ ۙ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ  اِلٰہَ  اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾

۱۸۔ اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سواکوئی معبود نہیں۔  اور فرشتے اور علم والے بھی انصاف پر قائم ہوکر۔  اس کےسوا کوئی معبود نہیں غالب حکمت والا ہے۔

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ  الۡحِسَابِ ﴿۱۹﴾

۱۹۔ دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔  اور انہوں نے جن کو کتاب دی گئی اختلاف نہیں کیا۔ مگر اس کے پیچھے کہ ان کے پاس علم آچکا ہے  آپس کی ضد سے  اور جو شخص اللہ کی آیتوں کا انکار کرتا ہے تو اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۲۰﴾

۲۰۔ پھر اگر تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے کہ میں نے اپنی توجہ کو اللہ کی فرمانبرداری میں لگادیا ہے اور انہوں نے (بھی) جو میرے پیچھے چلتے ہیں۔  اور اُن لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی اور امیوں کو کہہ دے کہ کیا تم فرمانبردار ہو؟  پھر اگر وہ فرمانبردار ہوجائیں تو یقیناً اُنہوں نے راہ پالی  اور اگر پھر  جائیں تو تجھ پر پہنچانا ہی ہے  اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

رکوع 3

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ  وَّ یَقۡتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡقِسۡطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ  بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۱﴾ 

۲۱۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اورنبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں  اور جو ان کو قتل کرتے ہیں جو لوگوں میں سے انصاف کا حکم دیتے ہیں،  تو ان کو دردناک عذاب کی خبر دے دے۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾

۲۲۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے عمل دنیا اور آخرت میں کام نہ آئے  اور اُن کے لیے کوئی مددگار نہ ہوں گے۔

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُدۡعَوۡنَ  اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ وَ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾

۲۳۔ کیا تو نے اُن کو نہیں دیکھا،  جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے  وہ اللہ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، پھر ایک گروہ اُن میں منہ موڑتا ہُوا پھر جاتا ہے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ۪ وَ غَرَّہُمۡ فِیۡ دِیۡنِہِمۡ مَّا  کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

۲۴۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سوائے گنتی کے دنوں کے ہمیں آگ نہیں چُھوئے گی  اور اس بات نے اُن کو اُن کے دین میں دھوکا دیا ہے جو وہ افترا کرتے تھے۔

فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰہُمۡ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ۟ وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾

۲۵۔ پھر کیا حال ہوگا ، جب ہم اُن کواُس دن اکٹھا کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر ایک جان کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾

۲۶۔ کہہ  اے اللہ  ملک کے مالک  تو جِسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک لے لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔  تیرے ہی ہاتھ میں (سب) بھلائی ہے تو ہر چیز پر قادر ہے۔

تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ تُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۫ وَ تُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ تُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ ۫ وَ تَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَیۡرِ  حِسَابٍ ﴿۲۷﴾

۲۷۔ تُو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے  اورمردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے،  اور تُو جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ  فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ  اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾

۲۸۔ مومن مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے تو اس کا اللہ کے ساتھ کچھ تعلق نہیں سوائے اِس کے کہ تم اُن سے کسی طرح بچاؤ کر لو اور اللہ تم کو اپنی سزا سے ڈراتا ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف انجام کار پہنچنا ہے۔

قُلۡ اِنۡ تُخۡفُوۡا مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ اَوۡ تُبۡدُوۡہُ یَعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۹﴾

۲۹۔ کہہ  اگر جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے چھپاؤ یا  اُسے ظاہر کرو اللہ اسے جانتا ہے  اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں  ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یَوۡمَ تَجِدُ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَیۡرٍ مُّحۡضَرًا ۚۖۛ وَّ مَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ ۚۛ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بَعِیۡدًا ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۳۰﴾

۳۰۔ جس دن ہر شخص جو کچھ اس نے نیکی کی ہے موجود پائے گا  اور جو کچھ اس نے بدی کی ہے،  آرزو کرے گا کہ اس کے اور اس کے درمیان لمبا فاصلہ ہوتا اور اللہ تم کو اپنی سزا سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر مہربان ہے۔

رکوع 4

قُلۡ  اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾

۳۱۔ کہہ  اگر تم اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو کہ اللہ تم سے محبّت کرے اور تمہیں تمہارے گناہ بخش دے  اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ  لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾

۳۲۔ کہہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو،  پھر اگر وہ پھر جائیں تو اللہ انکار کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ  وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾

۳۳۔ اللہ نے آدمؑ اور نوحؑ اور ابراہیمؑ کے گھرانے اور عمران ؑکے خاندان کو قوموں پر چُن لیا۔

ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ  عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾

۳۴۔ (یہ) ایک دوسرے کی نسل سے (تھے)  اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

اِذۡ  قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾

۳۵۔ جب عمران کی ایک عورت نے کہا۔  میرے رب جو  کچھ میرے پیٹ میں ہے میں نے آزاد کرکے تیری نذر مانا ہے پس مجھ سے قبول فرما کیونکہ تو سننے والا جاننے والا ہے۔

فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ  اُنۡثٰی ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ  کَالۡاُنۡثٰی ۚ وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ وَ اِنِّیۡۤ  اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ  الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾

۳۶۔ پھر جب اس نے جنا،  کہا میرے رب میں نے یہ لڑکی جنی ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے جو اس نے جنا،  اور لڑکا اس لڑکی کی طرح نہیں۔   اور میں نے اِس کا نام مریم  رکھا ہے اور میں اِسے اور اِس کی نسل کو شیطان مردُود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾

۳۷۔ سو اس کے رب نے اس کو اچھی قبولیت سے قبول کیا اور اس کو  عمدہ پرورش سے بڑھایا اور اسے زکریاؑ کے سپرد کیا جب کبھی زکریاؑ  اس کے پاس عبادت گاہ میں آتے اس کے پاس رزق پاتے  کہا اے مریم  یہ تجھے کہاں سے ملا،  اُس نے کہا یہ اللہ کی طرف سے ہے۔  بے شک اللہ  جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ  الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾

۳۸۔ وہیں زکریاؑ  نے اپنے رب سے دعا کی۔  کہا میرے رب  اپنی جناب سے مجھے پاکیزہ اولاد عطا فرما،  تو دعا سننےو الا ہے۔

فَنَادَتۡہُ  الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ ۙ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوۡرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾

۳۹۔ پھر فرشتوں نے اسے پکارا جبکہ وہ عبادت گاہ میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا ، کہ اللہ تجھے یحییٰؑ  کی خوش خبری دیتا ہے  جو اللہ کے ایک کلام کو سچا کرنے والا اور سردار اور بدیوں سے رُکنے والا اور نبی نیکوکاروں میں سے (ہوگا)۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ  وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ  یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾

۴۰۔ اس نے کہا میرے رب میرے بیٹا کیوں کر ہوگا  اورمجھ پر بڑھاپا  آچکا ہے اور میری عورت بانجھ ہے فرمایا اسی طرح ہوگا اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ  اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ  اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ  اِلَّا رَمۡزًا ؕ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾

۴۱۔ اس نے کہا میرے رب میرے لیے کوئی نشان مقرر کردے فرمایا تیرے لیے نشان یہ ہے کہ تین دن سوائے اشارہ کے لوگوں سے بات نہ کرے اور اپنے رب کو بہت یاد کر اور شام اور صبح تسبیح کر۔

رکوع 5

وَ اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰکِ وَ طَہَّرَکِ وَ اصۡطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ  الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۲﴾

۴۲۔ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم  اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور تجھے پاک بنایا ہے   اور قوموں کی عورتوں  میں سے تجھے چُن لیاہے۔

یٰمَرۡیَمُ اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ وَ اسۡجُدِیۡ وَ ارۡکَعِیۡ مَعَ  الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾

۴۳۔ اے مریم!  اپنے رب کی فرمانبرداری کر اور سجدہ کر اور جُھک جانے والوں کے ساتھ جُھک جا۔

ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ؕ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ  اِذۡ  یُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَہُمۡ اَیُّہُمۡ یَکۡفُلُ مَرۡیَمَ ۪ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ  اِذۡ  یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾

۴۴۔ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو اُن کے پاس نہ تھا جب وہ اپنی قلمیں ڈالتے تھے کہ اُن میں سے کون مریم کا کفیل بنے اور نہ تو اُن کے پاس تھا جب وہ آپس میں جھگڑتے تھے۔

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ  وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

۴۵۔ جب فرشتوں نے کہا،  اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے  ایک کلام کے ساتھ خوش خبری دیتا ہے۔  اس  (مبشر) کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے  جو دنیا اور  آخرت میں وجاہت والا اور مقربوں میں سے ہوگا۔

وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا  وَّ مِنَ  الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۴۶﴾

۴۶۔ اور وہ لوگوں سے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا اورنیکوں میں سے ہوگا۔

قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا  یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ  کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۷﴾

۴۷۔ اس نے کہا میرے رب  میرے بیٹا کیوں کر ہوگا اور مجھے  کسی انسان نے چھوا نہیں،  فرمایا اسی طرح ہوگا،  اللہ جو  چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب کسی امر کا فیصلہ کردیتا ہے تو اُسے کہتا ہے ہو پس وہ ہوجاتا ہے۔

وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ  وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ﴿ۚ۴۸﴾

۴۸۔ اور وہ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔

وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ  اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ  وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾

۴۹۔ اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔   کہ میں  تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بات لایا ہوں  کہ میں تمہارے لیے کیچڑ سے پرند کی شکل کی مانند تجویز کرتا ہو پھر اس کے اندر پھونکتا  ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے اُڑنے والا ہوجاتا ہے۔  اور اللہ کے حکم سے شب کور اور پھلوہری  والے کو اچھا کرتا ہوں اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں   اور جو  تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ رکھو اس کی خبر دیتا ہوں،  یقیناً اس میں تمہارے لیے نشان ہے اگر تم مومن ہو۔

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ  رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اور اس کی تصدیق کرنےو الا جو توریت میں سے مجھ سے پہلے ہے اور تاکہ اس کا کچھ حِصّہ تمہارے لیے حلال ٹھہراؤں جو تم پر حرام کیا گیا ہے۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے رب سے ایک پیغام لایا ہوں،  پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔

اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ  مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

۵۱۔ اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے،  پس اس کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے۔

فَلَمَّاۤ  اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾

۵۲۔ پھر جب عیسیٰؑ نے اُن سے کفر محسوس کیا تو کہا،  کون اللہ (کے دین) میں میرے مددگار ہیں۔   حواریوں نے کہا،   ہم اللہ (کے دین) کے  مددگار ہیں۔  ہم اللہ پر ایمان لائے۔  اور گواہ رہ کہ ہم فرمانبردار ہیں۔

رَبَّنَاۤ  اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾

۵۳۔ اے ہمارے رب  ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے  نازل کیا اور رسول کی پیروی کی پس تو ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ۔

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾

۵۴۔ اور (کافروں نے) تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے اچھا ہے۔

رکوع 6

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا  وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ  اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ  فِیۡہِ  تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾

۵۵۔ جب اللہ نے کہا،  اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف بلند کرنے والا ہوں   اور  تجھے  ان (کے الزام) سے پاک کرنے والا ہوں جو کافر ہیں   اور جنہوں نے تیری پیروی کی انہیں ان  پر جنہوں نے انکار کیا قیامت کے دن تک فوقیت دینے والا ہوں۔   پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ آنا ہے  پس میں تمہارے درمیان ان باتوں میں فیصلہ  کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾

۵۶۔ سو وہ جنہوں نے انکار کیا ان کو دنیا اور آخرت میں سخت دکھ کا عذاب دوں گا،  اور اُن کے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۷﴾

۵۷۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے سو ان کے اجر اُن کو پورے دے گا  اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

ذٰلِکَ نَتۡلُوۡہُ عَلَیۡکَ مِنَ الۡاٰیٰتِ وَ الذِّکۡرِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۵۸﴾

۵۸۔ یہ ہم آیتوں اور حکمت والے ذکر سے تجھ پر پڑھتے ہیں۔

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ  کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾

۵۹۔ بیشک عیسیٰ ؑ کی حالت اللہ کے نزدیک آدم کی حالت کی مانند ہے اسے مٹی سے پیدا کیا،  پھر اسے کہا ہوجا،  پس وہ ہوجاتا ہے۔

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾

۶۰۔ حق تیرے رب کی طرف سے ہے  پس تو جھگڑا کرنے والوں میں سے نہ ہو۔

فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾

۶۱۔ پھر اگر کوئی اس کے بعد جو تیرے پاس علم آچکا،  اُس کے بارے میں تجھ سے جھگڑا کرے تو کہہ  آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے لوگوں اور تمہارے لوگوں کو بلائیں، پھر گڑگڑا کر  دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ وَ مَا مِنۡ  اِلٰہٍ  اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾

۶۲۔ یقیناً یہی سچّا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں  اور یقیناً اللہ ہی غالب حکمت والا ہے۔

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ  بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾

۶۳۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو اللہ فساد کرنے والوں کوجانتا ہے۔

رکوع 7

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ  بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾

۶۴۔ کہہ  اے اہل کتاب اِس بات کی طرف آؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اورنہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب بنائے  اور اگر وہ پھر جائیں تو تم کہو گواہ رہو کہ ہم فرماں بردار ہیں۔

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَتِ التَّوۡرٰىۃُ وَ الۡاِنۡجِیۡلُ  اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ اَفَلَا  تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۵﴾

۶۵۔ اے اہل کتاب  تم ابراہیمؑ  کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو  حالانکہ توریت اور انجیل اِس کے بعد  ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

ہٰۤاَنۡتُمۡ  ہٰۤؤُلَآءِ  حَاجَجۡتُمۡ فِیۡمَا لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡمَا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾

۶۶۔ سنو! تم وہ ہو جو اُس میں جھگڑچکے جس کا تم کو علم تھا، پھر اِس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تم کو علم نہیں،  اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

مَا کَانَ  اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

۶۷۔ ابراہیمؑ  نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی،  لیکن وہ راست رو فرمانبردار تھا  اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔

اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ  الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾

۶۸۔  یقیناً ابراہیمؑ سے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو ایمان لائے اور اللہ مومنوں کا ولی ہے۔

وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ  اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ  وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۹﴾

۶۹۔ اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ تم کو گمراہ کریں،  اور وہ  اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں اور وہ محسوس نہیں کرتے۔

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ  وَ اَنۡتُمۡ  تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾

۷۰۔ اے اہل کتاب اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو ، حالانکہ تم گواہ ہو۔

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾

۷۱۔ اے اہل کتاب  کیوں حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو،  حالانکہ تم جانتے ہو۔

رکوع 8

وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ  لَعَلَّہُمۡ  یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۲﴾

۷۲۔ اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ دن کی ابتدا میں اس پر ایمان لے آؤ جو اُن لوگوں پر اتارا گیا ہے جو ایمان لائے ہیں  اوراس کے آخر میں انکار کردو تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

وَ لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ  اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ  اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚۙ۷۳﴾

۷۳۔  اور سوائے اُس کے کسی پر ایمان نہ لاؤ جو تمہارے دین پر چلے۔  کہہ (کامل) ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے کہ کسی شخص کو اس کی مثل دیا جائے ، جو تمہیں دیا گیا یا وہ تمہارے رب کے نزدیک تمہارے ساتھ جھگڑا کریں  گے کہہ  فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے  اسے دیتا ہے۔ اور اللہ کشایش والا جاننے والا ہے۔

یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ  یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾

۷۴۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مَنۡ  اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِقِنۡطَارٍ یُّؤَدِّہٖۤ  اِلَیۡکَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ  اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِدِیۡنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖۤ  اِلَیۡکَ اِلَّا مَادُمۡتَ عَلَیۡہِ قَآئِمًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ  یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾

۷۵۔ اور اہل کتاب میں سے وہ ہے کہ اگر تو اس کو مال کے ڈھیر پر امین بنائے تو وہ اسے تجھےو اپس دے دے اور اُن میں سے وہ ہے کہ اگر تو اسے ایک دینار پر امین بنائے تو وہ اسے تجھے واپس نہ دے۔ سوائے اس کے کہ تو اس (کے سر) پر کھڑا رہے یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر ان امیّوں کے بارے میں کوئی (الزام کی) راہ نہیں  اوروہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔

بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷۶﴾

۷۶۔ ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرتا ہے اور تقویٰ کرتا ہے تو  یقیناً اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشۡتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ اَیۡمَانِہِمۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا  اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَ لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾

۷۷۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت لے لیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حِصّہ نہیں اور نہ اللہ اُن سے کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن اُن کی  طرف دیکھے گا اور نہ اُن کو پاک کرے گا  اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَ اِنَّ مِنۡہُمۡ لَفَرِیۡقًا یَّلۡوٗنَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالۡکِتٰبِ لِتَحۡسَبُوۡہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مَا ہُوَ مِنَ الۡکِتٰبِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ  وَ مَا ہُوَ  مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ  یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۸﴾

۷۸۔ اور اُن میں سے ایک گروہ ہے جو کتاب کے متعلق جھوٹ بناتے ہیں تاکہ تم اسے کتاب سے سمجھو،  حالانکہ وہ کتاب سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ  اللہ کی طرف سے نہیں ہے  اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔

مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ  تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۷۹﴾

۷۹۔ کسی بشر کے لیے (شایاں) نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے،  پھر وہ لوگوں کوکہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کرمیرے بندے ہوجاؤ  لیکن (وہ کہتا ہے)تم ربّانی ہوجاؤ اس لیے کہ تم کتاب سکھاتے تھے اور اس لیے کہ تم  (اسے) پڑھتے تھے۔

وَ لَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿٪۸۰﴾

۸۰۔  اور نہ یہ کہ وہ تم کو حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو خداوند بنالو   کیا وہ تم کو کفر کا حکم دے گا اس کے بعد کہ تم مسلم ہوچکے ہو۔

رکوع 9

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ  الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾

۸۱۔ اور جب اللہ نے نبیوں کے ذریعہ سے عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت سے دیا ہے پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو اس کی تصدیق کرنےو الا ہو ، جو تمہارے پاس ہےتو تم نے ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی  کہا کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرے عہد کا بوجھ لیتے ہو،  انہوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں   کہاپس گواہ رہو اورمیں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔

فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾

۸۲۔ پھر جو کوئی اس کے بعد پھر جائے تو وہی بدعہد ہیں۔

اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللّٰہِ یَبۡغُوۡنَ وَ لَہٗۤ  اَسۡلَمَ  مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾

۸۳۔ تو کیا اللہ کے دین کےسوا کچھ اور چاہتے ہیں اور جو آسمانوں  اور زمین میں ہیں خوش اور ناخوش اسی کے  فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ  اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی وَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۪ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۴﴾

۸۴۔ کہہ  ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا اور اس پر جو ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ اور (اس کی) اولاد پر اتارا گیا۔  اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔

وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾

۸۵۔ اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہتا ہے، تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ  قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ وَ شَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّ جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اللّٰہُ  لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۶﴾

۸۶۔ اللہ ان لوگوں کو کس طرح ہدایت کرے جو اپنے ایمان کے بعد کافر ہوئے اور وہ گواہ ہیں کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس کھلی دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت  نہیں کرتا۔

اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ  اَنَّ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃَ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

۸۷۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور لوگوں سب کی لعنت ہے۔

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا  ہُمۡ  یُنۡظَرُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾

۸۸۔ اس میں رہیں گے نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡا ۟ فَاِنَّ اللّٰہَ  غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾

۸۹۔ مگر وہ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کی تو اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا  لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الضَّآلُّوۡنَ ﴿۹۰﴾

۹۰۔ جو اپنےا یمان کے بعدکافر ہوئے ، پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی  اور وہی گمراہ ہیں۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِہِمۡ مِّلۡءُ  الۡاَرۡضِ ذَہَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰی بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ  وَّ مَا لَہُمۡ  مِّنۡ  نّٰصِرِیۡنَ ﴿٪۹۱﴾

۹۱۔ جو کافر ہوئے اور مرگئے اور وہ کافر ہی تھے تو ان میں سے کسی سے زمین  بھر کر سونا بھی قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ اسے فدیہ دے ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کے لیے کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا۔

رکوع 10

لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ  عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾

۹۲۔ تم راستباز ی کو ہرگز حاصل نہ کرو گے یہاں تک کہ اس سے خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو  اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا  لِّبَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ  اِسۡرَآءِیۡلُ  عَلٰی  نَفۡسِہٖ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تُنَزَّلَ التَّوۡرٰىۃُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰىۃِ فَاتۡلُوۡہَاۤ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۳﴾

۹۳۔ کھانے کی سب چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں قبل اس کے کہ تورات اتاری جائے،  سوائے اس کےجو اسرائیل نے اپنی جان پرحرام کرلیا۔  کہہ تو تورات لاؤ پھر  اسے پڑھو،   اگر تم سچے ہو۔

فَمَنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ  فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۹۴﴾؃

۹۴۔ پھر جو کوئی اِس کے بعد اللہ پر جھوٹ بنائے تو وہی ظالم ہیں۔

قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ  ۟ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ  اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۵﴾

۹۵۔ کہہ اللہ نے سچ فرمایا ہے،  پس راست رَو ہو کر ابراہیمؑ کے دین کی پیروی کرو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔

اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا  وَّ ہُدًی  لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾

۹۶۔ پہلا گھر جو لوگوں کےلیے مقرر کیا گیا،  یقیناً وہی ہے جو مکّہ میں ہے برکت دیا گیا اور سب قوموں کے لیے ہدایت ہے۔

فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ  اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ  کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ  الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾

۹۷۔ اِس میں کُھلے کُھلے نشان ہیں مقام ابراہیمؑ،  او رجو وہاں داخل ہُوا  امن والاہوگیا  اور لوگوں پر اللہ کے لیے  اِس گھر کا حج کرنا ہے اُس پر جو اِس تک راہ پاسکے   اور جس نے انکار کیا تو اللہ جہانوں سے بے نیاز ہے۔

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۸﴾

۹۸۔ کہہ  اے اہل کتاب  کیوں اللہ کی آیتوں کا انکا رکرتے ہو  اور اللہ اس پر گواہ ہے جو تم کرتے ہو۔

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ  الۡکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا وَّ اَنۡتُمۡ شُہَدَآءُ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۹﴾

۹۹۔ کہہ  اے اہل کتاب  کیوں اُسے اللہ کی راہ سے روکتے ہو جو ایمان لائے تم اُس کے لیے ٹیڑھا پن چاہتے ہو،  حالانکہ تم گواہ ہو اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوۡا فَرِیۡقًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ یَرُدُّوۡکُمۡ  بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ  کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾

۱۰۰۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو،  اگر تم ان لوگوں میں سے ایک  گروہ کے پیچھے لگ جاؤ گے جن کو کتاب دی گئی ہے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کافر بنادیں گے۔

وَ کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلُہٗ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ہُدِیَ  اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ  ﴿۱۰۱﴾٪

۱۰۱۔ اور تم کس طرح کفر کرسکتے ہو  حالانکہ تم وہ ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اُس کارسول ہے۔ اور جو اللہ کو مضبوط پکڑتا ہے وہ یقیناً سیدھی راہ کی طرف ہدایت پاگیا۔

رکوع 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ  اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ  مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾

۱۰۲۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو  اللہ کا تقویٰ کرو جیسا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے اور تم نہ مرو مگر ایسی حالت میں کہ تم فرمانبردار ہو۔

وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ  اِذۡ  کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ  لَعَلَّکُمۡ  تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾

۱۰۳۔ اور سب کے سب اللہ کے عہد کو مضبوط پکڑلو اور تفرقہ نہ کرو  اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب  تم باہم دشمن تھے  پھر اُس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے  اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تم کو اس سے بچالیا۔  اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾

۱۰۴۔ اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف بلائیں  اور اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَ اخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۵﴾ۙ

۱۰۵۔ اور ان کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے تفرقہ کیا اور اختلاف کیا اس کے بعد کہ اُن کے پاس کھلی باتیں آچکی تھیں اور انہی  کے لیے بڑا عذاب ہے۔

یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ  وَّ تَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ ۟ اَکَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾

۱۰۶۔ جس دن (کچھ) مُنہ سفید ہوں گے اور (کچھ) منہ سیاہ ہوں گے  پس جن کے منہ سیاہ ہوئے کیا تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوئے؟  سو تم عذاب چکھو اس لیے کہ تم  کفر کرتے تھے۔

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ ابۡیَضَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فَفِیۡ رَحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ ہُمۡ  فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾

۱۰۷۔ اور جن کے مُنہ سفید ہوئے وہ اللہ کی رحمت میں ہیں  وہ اسی میں رہیں گے۔

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ  ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾

۱۰۸۔ یہ اللہ کی باتیں ہیں جن کو ہم تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں  اور اللہ جہانوں کے لیے ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ  اِلَی اللّٰہِ  تُرۡجَعُ  الۡاُمُوۡرُ  ﴿۱۰۹﴾٪

۱۰۹۔ اور اللہ کے لیے ہی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے  اور اللہ کی طرف ہی (سب) کام لوٹائے جاتے ہیں۔

رکوع 12

کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ  الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾

۱۱۰۔ تم سب سے اچھی جماعت ہو جو لوگوں (کی بھلائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے  تم اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو اور بُرے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پرایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو یقیناً ان کے لیے اچھا  ہوتا، اُن میں سے کچھ مومن ہیں اور اُن میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمۡ  اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَ اِنۡ  یُّقَاتِلُوۡکُمۡ   یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا  یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

۱۱۱۔ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے سوائے ستانے کے  اور اگر تم سے لڑیں گے تو تمہارے سامنے پیٹھ پھیر لیں گے  پھر اُن کو مدد نہ دی جائے گی۔

ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ  اَیۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ حَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡمَسۡکَنَۃُ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٭

۱۱۲۔ اُن پر ذلت کی مار ہے،  جہاں کہیں وہ پائے جائیں  سوائے (اس کے کہ) اللہ کے عہد اور لوگوں کے عہد کے ذریعہ سے (پناہ لیں) اور وہ اللہ کا غضب کمالائے اور ان پر مسکینی کی مار ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے،  اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔  یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جاتے تھے۔

لَیۡسُوۡا سَوَآءً ؕ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ  وَ ہُمۡ  یَسۡجُدُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

۱۱۳۔ (سب) برابر نہیں،  اہل کتاب میں سے ایک جماعت (حق پر) قائم ہے جو اللہ کی آیتوں کو رات کی گھڑیوں میں پڑھتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں۔

یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ  الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾

۱۱۴۔ وہ اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور بُرے کاموں سے روکتے ہیں اورنیکیوں کو جلدی لیتے ہیں  اور وہی نیکوں میں سے ہیں۔

وَ مَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ  عَلِیۡمٌۢ  بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾

۱۱۵۔ اور جو کچھ وہ نیکی کریں گے تو اُس کی ناقدری نہیں کی  جائے گی اور اللہ متقیوں کو خوب جاننے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡـًٔا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ  ﴿۱۱۶﴾

۱۱۶۔ جنہوں نے کفر کیا اُن کے مال اور اُن کی اولاد اللہ (کے عذاب) کےسامنے اُن کے کسی کام نہ آئیں گے اور وہی آگ والے ہیں وہ اسی میں رہیں گے۔

مَثَلُ مَا یُنۡفِقُوۡنَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَثَلِ رِیۡحٍ فِیۡہَا صِرٌّ اَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَاَہۡلَکَتۡہُ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ  اَنۡفُسَہُمۡ  یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾

۱۱۷۔ اُس کی مثال جو اِس دنیا کی زندگی کے متعلق خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے ہَوا،  جس میں سخت سردی ہو وہ اُن لوگوں کی کھیتی کو پہنچے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اسے تباہ کردے اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚۖ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾

۱۱۸۔ اے لوگو جو ایمان لائےہو   اپنوں کےسوائے (اپنے) رازدار نہ بناؤ،  وہ تمہاری خرابی میں کمی نہیں کرتے، وہی چاہتے ہیں جو تمہیں تکلیف دے اُن کے مونہوں سے بغض ظاہر ہوچکا ہے  اور جو کچھ اُن کے سینے چھپاتے ہیں وہ بڑھ کر ہے،  یقیناً ہم نے تمہارے لیے باتیں کھول کر بیان کردی ہیں اگر تم عقل سے کام لو۔

ہٰۤاَنۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمۡ وَ لَا یُحِبُّوۡنَکُمۡ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ کُلِّہٖ ۚ وَ اِذَا لَقُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ٭ۖ  وَ اِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ  الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۱۹﴾

۱۱۹۔ سنو! تم وہ ہو جو ان سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے،  حالانکہ تم ساری کی ساری کتاب پر ایمان لاتے ہو  اور جب وہ تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب علیحدہ ہوتے ہیں تو سخت غصے کے مارے تم پر انگلیاں کاٹتے ہیں  کہہ  اپنے غصّے میں مرجاؤ۔  اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫ وَ اِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـًٔا ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۱۲۰﴾٪

۱۲۰۔ اگر تم کو کوئی بھلائی پہنچے اُن کو برا لگتا ہے اور اگر تم کو کوئی برائی پہنچے وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو تو اُن کی تدبیر تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے گی اللہ اس کا جو وہ کرتے ہیں احاطہ کیے ہوئے ہے۔

رکوع 13

وَ اِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیُٔ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۱﴾ۙ

۱۲۱۔ اور جب تو سویرے اپنے گھر والوں سے چلا مومنوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر بٹھاتا تھا  اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

۱۲۲۔ جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں  اور اللہ ان دونوں کا ولی تھا  اور اللہ پر ہی مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔

وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ  لَعَلَّکُمۡ  تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾

۱۲۳۔ اور یقیناً اللہ نے تم کو بدر میں مدد دی جب تم کمزور تھے  پس اللہ کا تقویٰ کرو تاکہ تم شکرگزار بنو۔

اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ  مُنۡزَلِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ؕ

۱۲۴۔جب تو مومنوں سے کہتا تھا کہ کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے۔

بَلٰۤی ۙ اِنۡ  تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

۱۲۵۔ ہاں  اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو اور وہ اپنے پورے جوش میں تم پر حملہ کریں تمہارا رب پانچ ہزار (دشمن کو) تباہ کرنے والے فرشتوں سے تمہاری مد دکرے گا۔

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ  اِلَّا بُشۡرٰی لَکُمۡ وَ لِتَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُکُمۡ بِہٖ ؕ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا  مِنۡ  عِنۡدِ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ  الۡحَکِیۡمِ ﴿۱۲۶﴾ۙ

۱۲۶۔ اور اللہ نے اُسے صرف تمہارے لیے خوش خبری ٹھہرایا،  اور  تاکہ تمہارے دل اس سے اطمینان پکڑیں اور مدد تو اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے ہی ہے۔

لِیَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡ یَکۡبِتَہُمۡ فَیَنۡقَلِبُوۡا خَآئِبِیۡنَ ﴿۱۲۷﴾

۱۲۷۔ تاکہ ان لوگوں سے جو کافر ہوئے ایک حِصّہ کو کاٹ دے یا ان کو ذلیل کرکے لوٹا دے سو وہ نامراد واپس جائیں۔

لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ  اَوۡ  یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾

۱۲۸۔ اس کام میں تیرا کچھ (دخل) نہیں خواہ وہ اُن پر رحمت سے لوٹے یا انہیں عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں۔

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۹﴾٪

۱۲۹۔ اور اللہ کے لیے ہی ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے  جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

رکوع 14

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً  ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ  تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ

۱۳۰۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بڑھا بڑھا کر سُود نہ کھاؤ،  اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ  اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾ۚ

۱۳۱۔ اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ

۱۳۲۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ  مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ ۙ اُعِدَّتۡ  لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ

۱۳۳۔ اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے  وہ متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ

۱۳۴۔ جو لوگ آسودگی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور سخت غضب کو دبالینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور  اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ  اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا  اللّٰہَ  فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾

۱۳۵۔ اور وہ کہ جب وہ کوئی بُرا کام کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں اللہ کویاد کرتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں  اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے  اور جو کر بیٹھیں اُس پر اصرار نہیں کرتے درآنحالیکہ وہ جانتے ہوں۔

اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ نِعۡمَ اَجۡرُ  الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ؕ

۱۳۶۔ یہ لوگ ان کا بدلہ اپنے رب کی مغفرت اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں،  اُن میں رہیں گے  اور کام کرنے والوں کا اجر کیا ہی اچھا ہے۔

قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ سُنَنٌ ۙ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾

۱۳۷۔ تم سے پہلے واقعات گزرچکے ہیں۔  پس تم زمین میں  پھرو،  پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہُوا۔

ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾

۱۳۸۔ یہ لوگوں کے لیے بیان اور متقیوں کے لیے ہدایت اور وعظ ہے۔

وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾

۱۳۹۔ اور نہ سُست ہو اور نہ غمگین ہو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔

اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ  شُہَدَآءَ ؕ وَ اللّٰہُ  لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾ۙ

۱۴۰۔ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو یقیناً اسی طرح کا زخم (مخالف) قوم کو (بھی) پہنچا ہے اور ان دنوں کو ہم لوگوں میں نوبت بہ نوبت لاتے رہتے ہیں اور تاکہ اللہ ان کو جان لے جو ایمان لائے اور تم میں سے شہید بنائے اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾

۱۴۱۔ اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو کھرا کردے جو ایمان لائے اور کافروں کو مٹادے۔

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾

۱۴۲۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے  حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے اُن لوگوں کو نہیں جانا جو جہاد کرتے ہیں اور (تاکہ) وہ صبر کرنے والوں کو جانے۔

وَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡہُ ۪ فَقَدۡ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۴۳﴾٪

۱۴۳۔ اور یقیناً  تم جنگ چاہتے تھے قبل اس کے کہ اُسے ملو،  سو اب تم نے اسے دیکھ لیا اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔

رکوع 15

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ  الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾

۱۴۴۔ اور محمؐد  ایک رسول ہی ہے  اس سے پہلے (سب) رسول مرچکے ہیں۔  پھر اگر وہ مرجائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔  اور جو کوئی الٹے  پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گا  اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلدبدلہ دے گا۔

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ  ثَوَابَ الۡاٰخِرَۃِ نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ؕ وَ سَنَجۡزِی الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾

۱۴۵۔ اور کسی شخص کے لیے یہ نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے سوا  مرجائے (موت کا) وقت لکھا ہوا ہے،  اور جو کوئی دنیا  کا بدلہ چاہتا ہے ہم اُس کو اُس سے دے دیتے ہیں  اور جو کوئی آخرت کا بدلہ چاہتا ہے ہم اُس کو اُس سے دے دیتے ہیں  اور شکر کرنے والوں کو ہم جلد بدلہ دیں گے۔

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ  یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾

۱۴۶۔ اور کتنے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہوکر بہت سے ربّانی لوگ لڑے،  پھر اس وجہ سے وہ سُست نہ  ہوئے جو اُن کو اللہ کی راہ میں مصیبت پیش آئی اور نہ کمزور ہوئے اور نہ عاجزی اختیار کی  اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔

وَ مَا کَانَ قَوۡلَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسۡرَافَنَا فِیۡۤ  اَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾

۱۴۷۔ اور اُن کی بات سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ اُنہوں نے کہا ہمارے رب ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی  ہمیں بخش دے اور ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ اور ہم کو کافر قوم پر مدد دے۔

فَاٰتٰىہُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا وَ حُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾٪

۱۴۸۔ سو اللہ نے اُن کو دنیا کا ثواب اور آخرت کا اچھا ثواب دیا اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

رکوع 16

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾

۱۴۹۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تم اُن کی اطاعت کرو گے جو کافر ہوئے تو وہ تم کو اُلٹے پاؤں لوٹادیں گے،  پس تم نقصان اُٹھانے والے ہوکر پھر جاؤ گے۔

بَلِ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ النّٰصِرِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾

۱۵۰۔ بلکہ اللہ ہی تمہارا مولیٰ ہے اور سب سے اچھّا مددگار ہے۔

سَنُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ  کَفَرُوا الرُّعۡبَ بِمَاۤ اَشۡرَکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا ۚ وَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ وَ بِئۡسَ مَثۡوَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾

۱۵۱۔ ہم عنقریب اُن لوگوں کے دِلوں میں رُعب ڈال دیں گے جو کافر ہوئے اس لیے کہ اُنہوں نے اللہ کے ساتھ شریک بنایا ہے جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اُتاری،  اور اُن کا ٹھکانا  آگ ہے اور ظالموں کی کیا ہی بُری جگہ ہے۔

وَ لَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ  اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ حَتّٰۤی  اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَ تَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَ عَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنۡیَا وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ  ثُمَّ صَرَفَکُمۡ عَنۡہُمۡ لِیَبۡتَلِیَکُمۡ ۚ وَ لَقَدۡ عَفَا عَنۡکُمۡ  ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾

۱۵۲۔ اللہ نے یقیناً  اپنا وعدہ تم سے سچّا کرد کھایا جب تم اُس کے اذن سے اُن کو کاٹ رہے تھے۔  یہاں تک کہ تم  نے نامردی کی اور حکم میں جھگڑا کیا اور نافرمانی کی اس کے بعد کہ جو کچھ تم پسند کرتے تھے تم کو دکھادیا،    تم میں سے کچھ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور کچھ تم میں  سے وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔  پھر تم کو اُن سے ہٹا دیا تاکہ تمہیں امتحان میں ڈالے   اور یقیناً اس نے  تمہیں معاف کردیا اور اللہ مومنوں پرفضل والا ہے۔

اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ  اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّکَیۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا مَاۤ  اَصَابَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ  بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾

۱۵۳۔ جب تم دور نکلے جارہے تھے اور کسی کی طرف التفات نہ کرتے تھے اور رسول تمہیں تمہارے پیچھے بلاتا تھا۔ پھر تم کو ایک غم کے بدلے (دوسرا) غم دے دیا،  تاکہ تم اس پر غمگین نہ ہو جو تم سے جاتا رہا نہ اِس (مصیبت) پر جو تمہیں پہنچی  اور اللہ اس سے خبر دار ہے جو تم کرتے ہو۔

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ وَ طَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ  اَنۡفُسُہُمۡ  یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ  مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ   اِنَّ الۡاَمۡرَ  کُلَّہٗ  لِلّٰہِ ؕ یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ وَ لِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾

۱۵۴۔ پھر غم کے بعد تم پر امن نازل کیا (یعنی) اونگھ جس نے تم  میں سے ایک گروہ کو ڈھانک لیا  اور ایک گروہ کو اپنی جانوں کی فکر پڑ رہی تھی،  وہ اللہ پر ناحق بدگمانی جاہلیت کی سی بدگمانی کرتے ہیں۔  کہتے ہیں کیا ہمارا بھی کچھ اختیار ہے، کہہ   اختیار تو سب کاسب اللہ کا ہی ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو  تجھ پر ظاہر نہیں کرتے۔  کہتے ہیں اگر ہمارا بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو جن کے لیے قتل ہونا لکھا جاچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے  اور تاکہ اللہ اُسے ظاہر کردے جو تمہارے سینوں میں ہے اور اسے خالص کردے جو تمہارے دلوں میں ہے   اور اللہ سینوں کی  باتوں کو جاننے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا کَسَبُوۡا ۚ وَ لَقَدۡ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  غَفُوۡرٌ  حَلِیۡمٌ ﴿۱۵۵﴾٪

۱۵۵۔ وہ لوگ جنہوں نے اُس دن تم میں سے پیٹھ پھیر دی جس دن دو گروہ (جنگ میں) ملے شیطان نے ہی ان کی کسی کمائی کی وجہ سے اُن کو پھسلانا چاہا  اور یقیناً اللہ نے ان کو معاف کردیا ہے اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔

رکوع 17

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَ مَا قُتِلُوۡا ۚ لِیَجۡعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسۡرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ  بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾

۱۵۶۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو کافر ہوئے اور اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں جب وہ زمین میں سفر کرتے ہیں یا لڑائی کرتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے  اور نہ قتل کیے جاتے تاکہ اللہ اس کو اُن کے دلوں میں حسرت بنائے  اور اللہ زندہ کرتا اور مارتا  ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾

۱۵۷۔ اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے جاؤ یا مرجاؤ  تو اللہ کی مغفرت اور رحمت یقیناً اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

۱۵۸۔ اور اگر تم مرجاؤ یا قتل کیے جاؤ تو یقیناً اللہ کی طرف ہی اکٹھے  کیے جاؤ گے۔

فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾

۱۵۹۔ سو اللہ کی رحمت سے تو اُن کے لیے نرم ہے۔  اور اگر تو سخت کلام،  سخت دل ہوتا تو تیرے اِردگرد سے بِکھر جاتے۔    پس اُن کو معاف کر اور ان کے لیے بخشش  مانگ اور معاملات میں اُن کا مشورہ لے۔  پھر جب پختہ ارادہ کرلے تو اللہ پر ہی بھروسہ کر۔  اللہ توکل کرنے والوں سے محبّت کرتا ہے۔

اِنۡ یَّنۡصُرۡکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّخۡذُلۡکُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾

۱۶۰۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا  اور  اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو اُس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔

وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ  یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ  تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾

۱۶۱۔ اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے  اور جو خیانت کرے وہ جو کچھ خیانت کی ہے قیامت کے دن لائے گا  پھر ہر شخص کو جو اُس نے کمایا ہے پورا دیا جائے گا اوراُن پر ظلم نہ کیاجائے گا۔

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ  ﴿۱۶۲﴾

۱۶۲۔ تو کیا جو شخص اللہ کی رضا کی پیروی کرے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کمالائے  اور اُس کا ٹھکانا  دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بُری پہنچنے کی جگہ ہے۔

ہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ  بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾

۱۶۳۔ وہ اللہ کے نزدیک درجے (رکھتے) ہیں۔  اور اللہ دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ  اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾

۱۶۴۔ یقیناً اللہ نے مومنوں پر احسان کیا،  جب اُن میں اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا،  جو اُن پر اُس کی آیتیں پڑھتا ہے اور  اُنہیں پاک کرتا ہے اور اُنہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔  اگرچہ وہ پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَیۡہَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰی ہٰذَا ؕ قُلۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾

۱۶۵۔ اور کیا جب تمہیں ایک مصیبت پہنچی کہ اُس جیسی دو چند تم پہنچاچکے ہو،  تم نے کہا یہ کہاں سے ہے  کہہ یہ تمہاری اپنی طرف سے ہی ہے۔  اللہ ہر شے پرقادر ہے۔

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَ لِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾ۙ

۱۶۶۔ اور جو کچھ تمہیں اُس دن مصیبت پہنچی جب دو گروہ (جنگ میں) ملے  تو اللہ کے اذن سے تھا اور تاکہ وہ مومنوں کو جان لے۔

وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚۖ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ  لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ  بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۚ

۱۶۷۔ اور تاکہ اُن لوگوں کو جان لے جنہوں نے نفاق کیا اور اُن کو کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا مدافعت کرو۔  انہوں نے کہا اگر ہم لڑائی جانیں تو ضرور تمہارا ساتھ دیں۔ وہ آج کے دن ایمان کی نسبت کفر سے  بہت نزدیک ہیں   اپنے مونہوں سے کہتے ہیں جو اُن کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ (خوب) جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں۔

اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ وَ قَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ  ﴿۱۶۸﴾

۱۶۸۔ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے متعلق کہا اور خود بیٹھے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ کیے جاتے،  کہہ تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا رکھو اگر تم سچّے ہو۔

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ

۱۶۹۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردے مت خیال کرو  بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دئیے جاتے ہیں۔

فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ  اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۘ

۱۷۰۔ اس سے خوش رہتے ہیں جو اللہ نے اُن کو اپنے فضل سے دیا اور اُن کی وجہ سے (بھی) خوش ہوتے ہیں جو اُن کے پیچھے سے اُنہیں نہیں ملے کہ اُن کو کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ   ﴿۱۷۱﴾ۚ٪ۛ

۱۷۱۔اللہ کی نعمت اور فضل سے خوش ہوتے ہیں اور کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔

رکوع 18

اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ  اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ  عَظِیۡمٌ  ﴿۱۷۲﴾ۚ

۱۷۲۔ وہ جنہوں نے اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کی اس کے بعد کہ انہوں نے زخم کھایا،  جنہوں نے اُن میں سے احسان کیا اور تقویٰ کیا اُن کے لیے بڑا اجر ہے۔

اَلَّذِیۡنَ  قَالَ لَہُمُ النَّاسُ  اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡہُمۡ فَزَادَہُمۡ اِیۡمَانًا ٭ۖ وَّ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ ﴿۱۷۳﴾

۱۷۳۔ وہ جن کو لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے (مقابلے کے) لیے (لشکر) جمع کیے ہیں پس ان سے ڈرو  تو اس  (بات) نے اُن کا ایمان بڑھایا اور انہوں نے کہا اللہ ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔

فَانۡقَلَبُوۡا بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ لَّمۡ یَمۡسَسۡہُمۡ سُوۡٓءٌ ۙ وَّ اتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ  عَظِیۡمٍ ﴿۱۷۴﴾

۱۷۴۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس آئے انہیں کوئی دکھ نہ پہنچا اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی  اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوۡلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمۡ وَ خَافُوۡنِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ  مُّؤۡمِنِیۡنَ  ﴿۱۷۵﴾

۱۷۵۔ یہ شیطان صرف اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔ سو تم اُن سے مت ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو  اگر تم مومن ہو۔

وَ لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ ۚ اِنَّہُمۡ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَلَّا یَجۡعَلَ لَہُمۡ حَظًّا فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾

۱۷۶۔ اور وہ لوگ تجھے غمگین نہ کریں جو کفر میں جلدی کرتے ہیں یقیناً وہ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔  اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حِصّہ نہ رکھے  اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۷﴾

۱۷۷۔ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے  اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۷۸﴾

۱۷۸۔ اور جو کفر کرتے ہیں وہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم جو اُنہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے لیے اچھا ہے  ہم انہیں مہلت دیتے  ہیں آخر وہ گناہ میں بڑھ جاتے ہیں  اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

مَا  کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلٰی مَاۤ  اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ حَتّٰی یَمِیۡزَ  الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطۡلِعَکُمۡ عَلَی الۡغَیۡبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجۡتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ وَ  اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَلَکُمۡ  اَجۡرٌ  عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۹﴾

۱۷۹۔ اللہ ایسا نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر تم ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر  دے۔  اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہیں غیب پر اطلاع دے ، لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے چُن لیتا  ہے  پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہیں بڑا اجر ملے گا۔

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ  لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۸۰﴾٪

۱۸۰۔ اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے یہ خیال نہ کریں کہ یہ اُن کے لیے اچھّا ہے  بلکہ وہ اُن کے لیے بُرا ہے۔ قیامت کے دن وہی اُن کے گلے کا ہار بنایا جائے گا جس میں وہ بخل کرتے ہیں  اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ کی ہی ہے   اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔

رکوع 19

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾

۱۸۱۔ یقیناً اللہ نے ان لوگوں کی بات کو سُن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔  ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اور ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا بھی۔  اور ہم کہیں گے جلنے کا عذاب چکھو۔

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ  لِّلۡعَبِیۡدِ  ﴿۱۸۲﴾ۚ

۱۸۲۔ یہ اس کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا  اور کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنےو الا نہیں۔

اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰی یَاۡتِیَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡکُلُہُ النَّارُ ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِیۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡہُمۡ  اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾

۱۸۳۔ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہماری طرف تاکیدی حکم بھیجا تھا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے پاس وہ قربانی (نہ) لائے جسے آگ کھاتی ہو۔ کہہ  مجھ سے پہلے رسول تمہارے پاس کھلی دلائل کے ساتھ اور اس کے ساتھ جو تم کہتے ہو آئے تو ان کو تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو۔

فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ جَآءُوۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الۡکِتٰبِ  الۡمُنِیۡرِ ﴿۱۸۴﴾

۱۸۴۔ پھر اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی دلائل اور صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے۔

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ  الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾

۱۸۵۔ ہر ایک شخص موت چکھنے والا ہے اور تم کو صرف قیامت کے دن تمہارے پورے اجر دئیے جائیں گے۔   پس جو آگ سے دُور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا  وہ ضرور مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی نرا دھوکے کا سامان ہے۔

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾

۱۸۶۔ ضرور تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں آزمائے جاؤ گے اور ضرور تم اُن لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور اُن سے جو مشرک ہوئے بہت سی دُکھ دینے والی باتیں سنو گے  اور اگر تم صبر کرواور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ  وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ اشۡتَرَوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئۡسَ مَا یَشۡتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

۱۸۷۔ اور جب اللہ نے ان سے اقرار لیا جنہیں کتاب دی گئی ہے کہ ضرور تم اس کو لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے رہو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے پھر انہوں نے اس کو اپنی  پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت لے لی،  سو کیاہی بُرا ہے جو وہ لیتے ہیں۔

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾

۱۸۸۔ ہرگز خیال نہ کرو کہ جولوگ اس پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کیا اور پسند کرتے ہیں کہ اس کے لیے ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا۔  یہ ہرگز بھی خیال نہ کرو کہ وہ عذاب سے نجات پاگئے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ ﴿۱۸۹﴾٪

۱۸۹۔ اور آسمانوں اور زمین کا ملک اللہ  کا ہی ہے او راللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

رکوع 20

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ  لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ

۱۹۰۔ یقیناً آسمانوں  اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن  کے اختلاف میں عقل والوں کے لیے نشان ہیں۔

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ  قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾

۱۹۱۔ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے رہتے ہیں،  ہمارے رب تُو نے اسے بے فائدہ  پیدا نہیں  کیا تو پاک ہے  پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾

۱۹۲۔ ہمارے  رب  جس کو تو  آگ میں داخل کرے یقیناً  اسے تو نے رسوا کیا  اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ  فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ  الۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۳﴾ۚ

۱۹۳۔ ہمارے رب  ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ہے جو ایمان کے لیے بلاتا ہے کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم ایمان لائے۔ ہمارے رب  سو تو ہماری کمزوریوں کی حفاظت فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہم کو راستبازوں کے ساتھ وفات دے۔

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾

۱۹۴۔ ہمارے رب  اور ہمیں وہ عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہمیں اپنے رسولوں کے ذریعہ سے دیا ہے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا۔  بے شک تو وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ  بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾

۱۹۵۔ اُن کے رب نے اُن کی دعا قبول کی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے سے ہو۔   سو جنہوں  نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے، اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے  میں ضرور اُن کی تکلیفوں کو اُن سے دور کردوں گا اور میں ضرور ان کو باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔  یہ اللہ کی طرف سے بدلہ ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا بدلہ ہے۔

لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ  ﴿۱۹۶﴾ؕ

۱۹۶۔ جوکافر ہیں اُن کا ملکوں میں تصرف تجھے دھوکے میں نہ ڈالے۔

مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾

۱۹۷۔ تھوڑا سا سامان ہے  پھر اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ  لِّلۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۸﴾

۱۹۸۔ لیکن جنہوں نے اپنے رب کا تقویٰ کیا اُن کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں انہی میں رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے  اور جو اللہ کے پاس ہے وہ راستبازوں کے لیے بہت اچھا ہے۔

وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ  الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ  لِلّٰہِ ۙ لَا  یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾

۱۹۹۔ اور اہل کتاب میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اُتارا گیا اور اُس پر جو اُن کی طرف اتارا گیا۔ اللہ کے سامنےعاجزی کرتے ہوئے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہیں لیتے،  انہی  کے لیے اُن کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ  تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۲۰۰﴾٪

۲۰۰۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر کرو اور مقابلے میں بڑھ کر  صبر دکھاؤ اور محافظت کرو۔  اور اللہ کا تقویٰ اختیار  کرو تا کہ تم کامیاب ہو۔

Top