قرآنِ کریم (قرآن مجید) کا اردو ترجمہ بمعہ عربی متن

از مولانا محمد علی

Urdu Translation of the Holy Quran

by Maulana Muhammad Ali

Surah 35: Al-Fatir (Revealed at Makkah: 5 sections, 45 verses)

(35)  سُوۡرَۃُ  فَـاطِرٍ مَکِّیَّۃٌ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

اللہ بے انتہا رحم والے ، بار بار رحم کرنے والےکے نام سے

رکوع  1

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ جَاعِلِ الۡمَلٰٓئِکَۃِ  رُسُلًا اُولِیۡۤ  اَجۡنِحَۃٍ مَّثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ؕ یَزِیۡدُ فِی الۡخَلۡقِ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾

۱۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے (جو) آسمانوں اور زمین کا پیداکرنے والا ہے (اور) فرشتوں کو رسول بنانے والا (جو) دو دو اور تین تین اور چار چار بازوؤں والے (ہیں) وہ پیدائش میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ  لِلنَّاسِ مِنۡ  رَّحۡمَۃٍ  فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ  لَہٗ  مِنۡۢ  بَعۡدِہٖ ؕ وَ ہُوَ  الۡعَزِیۡزُ  الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾

۲۔ اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے تو اس کو بند کرنے والا کوئی نہیں اور جسے وہ بند کردے تو اس کے بعد اسے کوئی کھولنےوالا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ؕ ہَلۡ مِنۡ خَالِقٍ غَیۡرُ اللّٰہِ یَرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ   اِلَّا  ہُوَ ۫ۖ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳﴾

۳۔ اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کیا اللہ کے سوائے کوئی اور پیدا کرنے والا تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے  اس کے سوائے کوئی معبود نہیں،  سو تم کہاں الٹے پھرے جاتے ہو۔

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ ؕ وَ  اِلَی  اللّٰہِ  تُرۡجَعُ  الۡاُمُوۡرُ ﴿۴﴾

۴۔ اور اگر یہ تجھے جھٹلاتے ہیں تو تجھ سے پہلے رسول (بھی) جھٹلائے گئے اور اللہ کی طرف ہی (سب) کام لوٹائے جاتے ہیں۔

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ  اِنَّ  وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ  الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ  بِاللّٰہِ   الۡغَرُوۡرُ ﴿۵﴾

۵۔ اے لوگو! اللہ کا وعدہ سچّا ہے سو تمہیں دنیا کی زندگی دھوکا نہ دے اور نہ بڑا دھوکا دینےوالاتمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا دے۔

اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا یَدۡعُوۡا حِزۡبَہٗ  لِیَکُوۡنُوۡا مِنۡ  اَصۡحٰبِ  السَّعِیۡرِ ؕ﴿۶﴾

۶۔ شیطان تمہارا دشمن ہے سو اُسے دشمن سمجھو۔ وہ صرف اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ جلتی ہوئی آگ کے رہنے والوں میں سے ہوں۔

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا  لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ   وَّ  اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿٪۷﴾

۷۔ جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ اورجو ایمان لاتے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں،  اُن کے لیے مغفرت اوربڑا اجر ہے۔

رکوع 2

اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ  سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ  فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۫ۖ فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ  بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۸﴾

۸۔ تو کیا وہ شخص جِسے اس کا بُرا عمل بھلا معلوم ہوتا ہے اور وہ اسے اچھا سمجھتا ہے (ہدایت پاسکتا ہے)۔ سو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ پس تیری جان ان پرافسوس کرتے ہوئے ہلاک نہ ہوجائے۔ اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

وَ اللّٰہُ  الَّذِیۡۤ  اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰہُ  اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحۡیَیۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ کَذٰلِکَ النُّشُوۡرُ ﴿۹﴾

۹۔ اور اللہ وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے سو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں  پس ہم اسے ایک مردہ شہر کی طرف چلاتے ہیں  پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتے ہیں اسی طرح جی اٹھنا ہے۔

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعِزَّۃَ  فَلِلّٰہِ  الۡعِزَّۃُ جَمِیۡعًا ؕ اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَمۡکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ  مَکۡرُ  اُولٰٓئِکَ ہُوَ  یَبُوۡرُ ﴿۱۰﴾

۱۰۔ جو کوئی عزت چاہتا ہے تو سب عزّت اللہ کے لیے ہی ہے، اسی کی طرف پاک کلمے چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتاہے۔ اور جو لوگ بُری مخفی تدبیریں کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی مخفی تدبیر ملیامیٹ ہوجائے گی۔

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمۡ اَزۡوَاجًا ؕ وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ  اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِہٖۤ  اِلَّا فِیۡ  کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

۱۱۔ اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیداکیا، پھر نطفہ سے پھر تمہیں جوڑے بنایا۔ اور کوئی عورت حمل میں نہیں لیتی اور نہ جنتی مگر اسے علم ہوتا ہے، اور کسی عمر والے کو عمر نہیں دی جاتی او رنہ کسی کی عمر کم ہوتی ہے ، مگر یہ (سب کچھ) ایک کتاب میں ہے  یہ اللہ پر آسان ہے۔

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡبَحۡرٰنِ ٭ۖ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ  شَرَابُہٗ  وَ ہٰذَا مِلۡحٌ   اُجَاجٌ ؕ وَ مِنۡ کُلٍّ تَاۡکُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡنَ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ فِیۡہِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ  وَ  لَعَلَّکُمۡ  تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾

۱۲۔ اور دو دریا برابر نہیں،  یہ میٹھا ہے خوش ذائقہ، اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا۔ اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو، جسے تم پہنتے ہو۔ اور تُو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اسے پھاڑتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔

یُوۡلِجُ  الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ  النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ۖ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ  لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ  رَبُّکُمۡ لَہُ  الۡمُلۡکُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ  قِطۡمِیۡرٍ ﴿ؕ۱۳﴾

۱۳۔ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقت مقرر کے لیے چلتا ہے۔ یہ اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہت ہے۔ اور وہ جنہیں تم اس کے سوائے  پکارتے ہو وہ ایک ذرہ بھر اختیارنہیں رکھتے۔

اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا  لَکُمۡ ؕ وَ  یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ  یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ ؕ وَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثۡلُ خَبِیۡرٍ ﴿٪۱۴﴾

۱۴۔ اگر تم انہیں بلاؤ تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے اور اگر سنیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں  اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے اور (خدائے) باخبر کی طرح کوئی تجھے خبر نہ دے گا۔

رکوع 3

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ  اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ  ہُوَ  الۡغَنِیُّ   الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾

۱۵۔ اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ بے نیاز تعریف کیا گیاہے۔

اِنۡ  یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ  وَ یَاۡتِ  بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾

۱۶۔ اگر چاہے تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے۔

وَ مَا ذٰلِکَ عَلَی  اللّٰہِ  بِعَزِیۡزٍ ﴿۱۷﴾

۱۷۔ اور یہ اللہ پر مشکل نہیں۔

وَ لَا تَزِرُ  وَازِرَۃٌ  وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَۃٌ  اِلٰی حِمۡلِہَا لَا یُحۡمَلۡ مِنۡہُ شَیۡءٌ وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ مَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی  لِنَفۡسِہٖ ؕ وَ  اِلَی  اللّٰہِ  الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾

۱۸۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا اور اگر کوئی بوجھ میں دبا ہُوا اپنے بوجھ (کے ہٹانے) کے لیے بلائے اس (کے بوجھ) میں سے کچھ نہ اُٹھایا جائے گا  اگرچہ قریبی ہو،  تُو صرف انہیں ڈراتا ہے جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کوئی اپنے آپ کو پاک کرتا ہے تو اپنی ہی جان (کی بھلائی) کے لیے پاک کرتا ہے۔ اور اللہ کی طرف ہی پھر کر جاناہے۔

وَ مَا یَسۡتَوِی  الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ﴿ۙ۱۹﴾

۱۹۔ اور اندھا اور دیکھنےوالا برابرنہیں۔

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا  النُّوۡرُ ﴿ۙ۲۰﴾

۲۰۔ اورنہ اندھیرا اور روشنی۔

وَ لَا الظِّلُّ  وَ لَا  الۡحَرُوۡرُ ﴿ۚ۲۱﴾

۲۱۔ اور نہ سایہ اوردھوپ۔

وَ مَا یَسۡتَوِی  الۡاَحۡیَآءُ  وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ  اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ  مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾

۲۲۔ اور نہ ہی زندےاور مُردے برابر ہیں۔ اللہ (تعالیٰ) جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور تُو انہیں سنانے والا نہیں،  جوقبروں میں ہیں۔

اِنۡ  اَنۡتَ  اِلَّا  نَذِیۡرٌ ﴿۲۳﴾

۲۳۔تو صرف ڈرانے والا ہے۔

اِنَّاۤ  اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ  مِّنۡ  اُمَّۃٍ   اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾

۲۴۔ ہم نےتجھے حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی قوم نہیں مگر اس میں ڈرانے والاگزرچکا۔

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ جَآءَتۡہُمۡ  رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور اگر تجھے جھٹلائیں تو انہوں نے بھی (اپنے رسولوں کو) کو جھٹلایا جو ان سےپہلے تھے ۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی دلیلوں اورصحیفوں اور روشن کرنے والی کتاب کے ساتھ آئے۔

ثُمَّ  اَخَذۡتُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۲۶﴾

۲۶۔ پھر میں نے انہیں پکڑا جنہوں نے کفر کیا، سو میری ناپسندیدگی کیسی تھی۔

رکوع 4

اَلَمۡ  تَرَ  اَنَّ اللّٰہَ  اَنۡزَلَ مِنَ  السَّمَآءِ  مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ  مُّخۡتَلِفًا  اَلۡوَانُہَا ؕ وَ مِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ  بِیۡضٌ وَّ حُمۡرٌ  مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہَا وَ غَرَابِیۡبُ سُوۡدٌ ﴿۲۷﴾

۲۷۔ کیا تُو نے غور نہیں کیا کہ اللہ بادل سے پانی اتارتا ہے، پھر ہم اس کےساتھ پھل نکالتے ہیں جو مختلف قسموں کے ہیں اور پہاڑوں میں سفید اور سُرخ خطے ہیں،  جن کے رنگ مختلف ہیں اور (بعض) نہایت سیاہ ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الۡاَنۡعَامِ مُخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ  کَذٰلِکَ ؕ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ  الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ  غَفُوۡرٌ ﴿۲۸﴾

۲۸۔ اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چارپایوں کے  رنگ کئی طرح کے ہیں۔ اللہ سے صرف اس کے علم والے بندے ڈرتے ہیں۔  اللہ غالب بخشنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ  کِتٰبَ اللّٰہِ  وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ  وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً  یَّرۡجُوۡنَ  تِجَارَۃً  لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾

۲۹۔ جو لوگ کتاب اللہ کو پڑھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اس سے جو ہم نے انہیں دیا چھپ کر اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو تباہ نہیں ہوگی۔

لِیُوَفِّیَہُمۡ  اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ  اِنَّہٗ  غَفُوۡرٌ  شَکُوۡرٌ ﴿۳۰﴾

۳۰۔ تاکہ وہ انہیں ان کے اجر پورے دے اور اپنے فضل سے انہیں بڑھ کر دے۔ وہ بخشنے والا قدردان ہے۔

وَ الَّذِیۡۤ  اَوۡحَیۡنَاۤ  اِلَیۡکَ  مِنَ الۡکِتٰبِ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ  لَخَبِیۡرٌۢ  بَصِیۡرٌ ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور کتاب جو ہم نے تیری طرف وحی کی ہے وہ حق ہے اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے۔ یقیناً اللہ اپنے بندوں سے خبردار (انہیں) دیکھنے والا ہے۔

ثُمَّ  اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ  الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾

۳۲۔ پھر ہم نے کتاب کا وارث ان کو بنایا جنہیں ہم نےاپنے بندوں میں سے چنُا سو کوئی ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی ان میں سے میانہ رَو ہے، اور کوئی ان میں سے اللہ کے حکم سے نیکیوں میں سبقت کرنےو الا ہے  یہی بڑا فضل ہے۔

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ  مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ  فِیۡہَا  حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾

۳۳۔ ہمیشگی کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے ان میں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔  اور ان کا لباس ان میں ریشم ہوگا۔

وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ  اَذۡہَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ؕ اِنَّ  رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ  شَکُوۡرُۨ ﴿ۙ۳۴﴾

۳۴۔ اور کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے غم دُور کردیا،  یقیناً ہمارا رب مغفرت کرنے والا قدر دان ہے۔

الَّذِیۡۤ  اَحَلَّنَا  دَارَ الۡمُقَامَۃِ  مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیۡہَا  لُغُوۡبٌ ﴿۳۵﴾

۳۵۔ وہ جس نے ہمیں اپنے فضل سے ٹھیرنے کے گھر میں اتارا نہ ہمیں اس میں مشقت ہوگی اور نہ ہمیں اس میں تکان ہوگی۔

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ نَارُ جَہَنَّمَ ۚ لَا یُقۡضٰی عَلَیۡہِمۡ  فَیَمُوۡتُوۡا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ  مِّنۡ عَذَابِہَا ؕ کَذٰلِکَ  نَجۡزِیۡ  کُلَّ کَفُوۡرٍ ﴿ۚ۳۶﴾

۳۶۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے، نہ اُن کا کام تمام کیا جائے گا کہ مرجائیں اور نہ کچھ اس کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ اسی طرح ہم ہر ناشکرے کو سزا دیتے ہیں۔

وَ ہُمۡ یَصۡطَرِخُوۡنَ فِیۡہَا ۚ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ اَوَ لَمۡ  نُعَمِّرۡکُمۡ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیۡہِ مَنۡ تَذَکَّرَ وَ جَآءَکُمُ  النَّذِیۡرُ ؕ فَذُوۡقُوۡا  فَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ  مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿٪۳۷﴾

۳۷۔ اور وہ اس میں چلائیں گے ہمارا رب ہمیں نکال دے۔  ہم اچھے عمل کریں گے نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے۔ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہ دی تھی کہ اس میں نصیحت حاصل کرلیتا جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا تھا  اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا  سو چکھو کیونکہ ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں۔

رکوع 5

اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیۡبِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ  بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۳۸﴾

۳۸۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے۔ وہ سینوں کی باتوں کو (بھی) جاننے والا ہے۔

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ فَمَنۡ  کَفَرَ فَعَلَیۡہِ  کُفۡرُہٗ ؕ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ عِنۡدَ  رَبِّہِمۡ  اِلَّا مَقۡتًا ۚ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ  کُفۡرُہُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴿۳۹﴾

۳۹۔ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں حاکم بنایا، سو جو کوئی کفر کرے تو اس کا کفر اسی پر ہے  اور کافروں کو ان کا کفر اُن کے رب کے نزدیک صرف بغض میں بڑھاتا ہے اور کافروں کو ان کا کفر صرف نقصان میں بڑھاتا ہے۔

قُلۡ  اَرَءَیۡتُمۡ شُرَکَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ  دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ۚ اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا فَہُمۡ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنۡہُ ۚ بَلۡ  اِنۡ یَّعِدُ الظّٰلِمُوۡنَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۴۰﴾

۴۰۔ کہہ  کیا تم اپنے شریکوں کو دیکھتے ہو جنہیں تم اللہ کے سوائے پکارتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین سے کیا پیداکیا ہے یا اُن کے لیےآسمانوں میں شرکت ہے،  یا ہم نے انہیں کتاب دی ہے  تو وہ اس کی کھلی دلیل پر قائم ہیں  بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں،  صرف دھوکا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ یُمۡسِکُ  السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ۚ وَ لَئِنۡ زَالَتَاۤ  اِنۡ  اَمۡسَکَہُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۱﴾

۴۱۔ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ اپنے رستہ سے ہٹ نہ جائیں۔ اور اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے،  وہ بردبار بخشنے والا ہے۔

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ جَآءَہُمۡ  نَذِیۡرٌ لَّیَکُوۡنُنَّ اَہۡدٰی مِنۡ اِحۡدَی الۡاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ  نَذِیۡرٌ  مَّا زَادَہُمۡ  اِلَّا  نُفُوۡرَۨا ﴿ۙ۴۲﴾

۴۲۔اور اللہ کی پکی قسمیں کھاتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ قوموں میں سے ہر ایک سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے  پھر جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو اس نے انہیں نفرت میں ہی بڑھایا۔

اسۡتِکۡـبَارًا فِی  الۡاَرۡضِ وَ مَکۡرَ السَّیِّیَٔ ؕ وَ لَا یَحِیۡقُ الۡمَکۡرُ السَّیِّیُٔ  اِلَّا بِاَہۡلِہٖ ؕ فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ  اِلَّا سُنَّتَ الۡاَوَّلِیۡنَ ۚ فَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۬ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ  لِسُنَّتِ  اللّٰہِ تَحۡوِیۡلًا ﴿۴۳﴾

۴۳۔ زمین میں تکبّر اور بُری تدبیریں کرنے لگے۔  اور بُری تدبیر کاوبال صرف اس کے کرنےو الے پر ہی پڑتا ہے،  سو یہ پہلوں کے ہی برتاؤ کا انتظار کرتے ہیں۔ سو تُو اللہ کے طریق میں کوئی تبدیلی نہ پائے گا۔ اور نہ تُو اللہ کے طریق کو ٹلتا ہوا پائے گا۔

اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ  الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡہُمۡ  قُوَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ  لِیُعۡجِزَہٗ  مِنۡ شَیۡءٍ  فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ  کَانَ عَلِیۡمًا قَدِیۡرًا ﴿۴۴﴾

۴۴۔ اور کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں،  پس دیکھتے کہ ان کا انجام کیسا ہُوا جو ان سے پہلے تھے،  اور وہ قوت میں ان سے بڑھ کر تھے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ اسے کوئی چیز عاجز کردے (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں،   وہ جاننے والا قدرت والا ہے۔

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ  النَّاسَ بِمَا کَسَبُوۡا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہۡرِہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ  وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ  اِلٰۤی  اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ  اَجَلُہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ  بَصِیۡرًا ﴿٪۴۵﴾

۴۵۔ اور اگر اللہ لوگوں کو اس پر پکڑتا جو وہ کرتے ہیں تو اس کی پیٹھ پر کوئی حیوان نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ انہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے،  سو جب ان کا وقت آجائے گا۔ تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھنےوالا ہے۔

Top