خطبہِ جمعہ
ایک وفا شعار اور زاہد و عابد دوست کی جدائی
مسیح موعودؑ کی صحبت نے ایک پولیس افسر کی زندگی پر کیا اثر کیا
از
مولانا محمد علی
۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ء
احمدیہ بلڈنگس (لاہور)
تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضرت مولیٰناؒ نے ذیل کی قرآنی آیات تلاوت کیں:
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰ تِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔
(۲، ۱۵۵ تا ۱۵۶)
’’اور ضرور ہم کسی قدر ڈر اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے تمہارا امتحان کریں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے کہتے ہیں ہم اللہ کے لئے ہی ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘
غالباً یہاں سب کو اطلاع مل چکی ہوگی کہ میاں غلام رسول صاحب کا، جو ایک لمبے عرصے سے بیمار چلے آتے تھے، آج صبح انتقال ہوگیا ہے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
ہر ایک دوست کی موت غم کا موجب ہوتی ہے۔ لیکن بعض دوستوں کا گزر جانا ایک بڑا بھاری قومی صدمہ ہوتا ہے۔ میاں صاحب مرحوم ان دوستوں میں سے تھے جو، جب سے یہاں جماعت کی بنیاد رکھی گئی، اس وقت سے ہمارے ساتھ رہے۔ اور ہمیشہ جماعت کے لئے بڑی قوت کا موجب ثابت ہوتے رہے۔
حضرت امامِ وقت کا فیضان صحبت
بعض لوگوں پر حضرت مسیح موعود ؑ (حضرت مرزا غلام احمد قادیانی) کے فیضان کا اس قدر اثر نظر آتا ہے کہ ان کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی ایک مردِ خد ا کی صحبت کیا تبدیلی انسان کے اندر پید اکرسکتی ہے۔ ایک پولیس افسر ہو کر انہوں نے پاکیزہ زندگی بسر کی۔ وہ بظاہر تو اس ملک کے اس انتظامی طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو خاصہ بدنام طبقہ ہے بوجہ ان زیادتیوں کے جو اکثر پولیس افسروں کی طرف سے لوگوں پر ہوجاتی ہیں۔ ان کا قلب خدا کے نور سے روشن تھا۔ اور باوجود ان دنیا کے کاموں کے ایک زاہد اور عابد کی زندگی بسر کرتے تھے۔ یہ اثر حضرت امام زمانؑ کی صحبت کا ایک شخص پرنہیں بلکہ بہت لوگوں پر ہوا۔ اور فی الحقیقت کسی وعظ سے یہ کبھی نتیجہ پید انہیں ہوسکتا۔ یہ کوئی انسان کے قلب کے اندر خدا وند تعالیٰ نے ایسی قوت رکھی ہے کہ اس کی نیکی کی قوت اس قدر زبردست ہوتی ہے۔ اس کے دل کے اندر خدا کا جو نور ہوتا ہے وہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ بغیر وعظ اور نصیحت کے دوسروں پر اثر کر جاتا ہے۔ یہی حالت اِمَامُنَا حضرت مرزا صاحب کے پاس بیٹھنے والوں کی ہوگئی تھی۔
جو لوگ آپ کی صحبت میں جا کر بیٹھے ان میں اِلَّا مَاشَا َٔ اللّٰہُ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے آپ کی صحبت سے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا۔لیکن ایسے لوگ بہت کم تھے۔ بعض ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق کم فائدہ اُٹھایا لیکن اُن میں سے ایسے لوگ بہت ہی زیادہ تھے جن کی زندگیوں میں آپ کی صحبت کے اثر سے ایک انقلاب رونما ہو گیا۔ دنیا کو واقعی ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہمیشہ رہی اور اب بھی ہے۔
اسلام کو بدنام کرنے والا نقشہ
آج جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں چاروں طرف ایک ایسا نقشہ نظر آتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے کلام قرآن کریم کی اتباع اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپؐ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کی زندگیوں کو خدا اور اس کے رسولؐ سے دور کا تعلق بھی نظر نہیں آتا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے آج اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔ اور جو مسلمانوں کی تمام تکالیف اور دُکھوں کا موجب ہے۔ لوگ اس دنیا کو ہی اپنی غرض و غائت سمجھ لیتے ہیں۔
موت اور عالمِ اُخروی کی جزا و سزا کا احساس
لیکن اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے اس کا ماحصل یہی ہے کہ درحقیقت یہ زندگی یہاں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ یہ چیز جس کو ہم موت کہتے ہیں،انسان کو فی الحقیقت ختم نہیں کردیتی۔ بلکہ ایک دوسرے عالم میں منتقل کردیتی ہے۔ اس کا احساس اگر کسی کے دل میں پیدا ہو جائے تو خدا وند تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کا خیال تک بھی اس کے دل میں نہیں آسکتا۔ لیکن آج اہلِ مذاہب جو مذہب کے پیرو کہلاتے ہیں وہ منہ سے تو اس بات کے قائل ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک زندگی ہے جس میں جزا و سزا دی جائے گی۔لیکن کوئی کام کرتے وقت ان کے دل پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ فی الواقع ہمارا یہ عمل قابلِ گرفت ہے۔ا سی عدم احساس کی وجہ سے لوگ گناہ کرنے پر دلیر ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان بھی گناہ کرنے سے نہیں رُکتے۔
حضرت مرزا صاحب نے یہ احساس پیدا کیا
حضرت مرزا صاحب کی صحبت میں بیٹھنے والوں پر جو اثر آپ کے پاس بیٹھنے سے ہوتا تھا وہ فی الحقیقت اسی احساس کا پیدا ہو جاتا تھا کہ یہ ہماری زندگی اصل منتہاء نہیں بلکہ ایک دوسرے لا زوال اور دائمی عالم کی طرف ہمیں کوچ کرنا ہے۔اور ہماری یہ حالت ایک سفرکی حالت ہے۔ فی الحقیقت انسان اگر اتنا سمجھ لے کہ یہ ایک سفر کی حالت ہے تو اس سے اس کا دل پاک ہوسکتا ہے۔ اور اعمال میں پاکیزگی پید اہوسکتی ہے۔
موت کے بعد کام آنے والی چیز
اس وقت میں صرف آپ کو ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ دوستوں کی موت سے سبق لینا چاہتے ہو تو سمجھ لو کہ انسان کی زندگی کا کچھ بھی اعتماد نہیں۔ ہماری تمام آرزوئیں اور تمام خیالات جو اس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس کے بعد کی آنے والی زندگی میں موت کا موجب ہوتے ہیں۔ اور وہ خیالات جو خدا کا نام دنیا میں بلند کرنے کے متعلق ہیں وہ زندہ رہنے والی چیز ہے۔ یہی صرف ایک چیز ہے جو آئندہ ہمارے کام آسکتی ہے۔
مرحوم کے دل میں خدمتِ خلق کا جذبہ
ہمارے مرحوم دوست نے نہ صرف ایک نمونہ اپنی اس ملازمت میں ہی دکھلایا بلکہ اس کے بعد بھی جب وہ اس کام سے فارغ ہو گئے تو ان کے دل کے اندر مخلوقِ خدا کی ہمدردی کا جذبہ موجزن تھا۔ اور یہ جذبہ ان کے دل میں آخر دم تک رہا۔ وہ اپنے علم کے مطابق کثیر مخلوق کے نفع کا موجب ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو مخلوقِ خدا کی خدمت کے لئے وقف کردیا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی اس کام کو چھوڑنے کے لئے آمادہ نہ ہوئے، ڈاکٹروں نے کئی بار مشورہ دیا کہ اس حالت میں اپنے ذمہ اس قسم کا بوجھ نہ رکھیں۔ لیکن وہ اس خدمت کے سرانجام دینے سے رُکے نہیں۔
میاں صاحب مرحوم کی عمر
ہر انسان کا ایک وقت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اچھی عمر عطا کی۔ میرا خیال ہے کہ ان کی عمر ۸۰، ۸۲ سال ہوگی۔ (شیخ محمد یوسف صاحب گرنتھی نے بتایا کہ میاں صاحب ۸۵ سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔ اور عمر کے متعلق انہوں نے مرحوم کے لواحقین سے سنا ہے ۔مدیر) مرحوم نے اس لمبی عمر کو بہترین رنگ میں صرف کیا۔ لمبی عمریں تو بہت سے انسانوں کو مل جاتی ہیں لیکن اگر وہ اچھی باتوں میں صرف نہ ہوں تو وہ عمر نقصان کا موجب ہوتی ہے۔
مالی قربانیاں اور صالح اولاد
خدا تعالیٰ نے آپ کو مال بھی کثرت سے دیا اور انہوں نے اس کو خدا کی راہ میں اچھی طرح خرچ بھی کیا۔ ہر قربانی کے موقعہ پر ان کا قدم آگے ہوتا تھا۔ خدا نے اولاد بھی دی اور یہ اس کا فضل ہے کہ بڑی اچھی صالح اولاد ان کو ملی۔ وہ سب بھائی بڑے ممتاز عہدوں پر متمکن ہیں۔ اور یہ خوبی اُن کے اند ربھی پائی جاتی ہے۔ اپنے عہدہ سے کسی قسم کا ناجائز فائدہ اُٹھانا ان کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہیں آتا۔ مرحوم اپنے پیچھے ایک اچھی یادگار چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جناب میں بلند مقام عطا فرمائے۔ وہ مقام جو اپنے صالح بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ اور ان کی اولاد کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم لوگوں کو یہ توفیق دے کہ ہمارے دلوں پر بھی اس آنے والے وقت کا احساس پیدا ہوجائے۔ جوانی کے عالم میں یہ احساس طبعاً کم ہوتا ہے لیکن جوں جوں انسان عمر میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور منزل کے قریب ہوتا جاتا ہے، اس کا احساس بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
دعائے مغفرت
ہمارے سالانہ جلسے کے شروع میں یہ افسوسناک خبر یقیناً ہم سب کے لئے حزن کا موجب ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے، جس کے سامنے انسان کو کوئی چارہ نہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کا مقررہ وقت کب آنے والا ہے۔
میں خطبے کو زیادہ لمبا نہیں کرسکتا ۔جنازہ کے متعلق خیال ہے کہ کل جب جماعت کا اکثر حصہ موجود ہوگا پڑھا جائے (۲۵ دسمبر کو بعد نماز ظہر و عصر حضرت میاں صاحب مرحوم کا جنازہ غائبانہ تمام جماعت نے مل کر پڑھا۔مدیر)
میں ابھی پچھلا جمعہ پڑھ کر شام کے وقت عیادت کے لئے گیا تھا اور اتوار کو صبح واپس آیا تھا۔ اس وقت جو حالت میں نے دیکھی تھی وہ واقعی تکلیف دہ تھی۔ میں تو ابھی اسی خیال میں تھا کہ ہم دعا کریں گے۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ دعائے صحت کی بجائے دعائے مغفرت مانگیں گے۔
(پیغام صلح، ۴ جنوری ۱۹۵۰ء، صفحہ ۵ اور ۷)

