خطبہِ جمعہ
صرف حلال کمائی کی قربانی ہی خدا کے نزدیک قابلِ قبول ہو سکتی ہے
رشوت اور بلیک مارکیٹ کا روپیہ خدا کے ہاںمقبول نہیں —
ہماری ادنیٰ قربانیوں کی مقبولیت اور بیش بہا نتائج
از
مولانا محمد علی
۷ ربیع الاول۱۳۶۸ ھ
۷ جنوری۱۹۴۹ ء
احمدیہ بلڈنگس (لاہور)
تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضرت مولیٰناؒ نے ذیل کی قرآنی آیت تلاوت کی:
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْٓ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِ ھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ۔
(۵، ۲۷)
’’اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر حق کے ساتھ پڑھ دو، جب انہوں نے کوئی قربانی پیش کی سو وہ اُن دونوں میں سے ایک سے قبول کی گئی اور دوسرے سے قبول نہ کی گئی اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (اس نے) کہا اللہ صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔‘‘
قربانی کا ایک واقعہ
بظاہر ایک واقعہ کا یہاں ذکر ہے جو کبھی پیش آیا، آدم کے دو بیٹے، کوئی دو آدمی تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ان کی خبر حق کے ساتھ ان لوگوں پر پڑھ دو، ان دونوں نے قرب الٰہی کے حصول کے لئے اپنی اپنی طرف سے کوئی قربانی پیش کی۔ ایک کی قربانی کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ تو جس کی قبول نہ ہوئی تھی اس نے دوسرے کو کہا کہ میں تجھ کو قتل کر دوں گا۔ اس نے، جس کی قربانی قبول ہوئی تھی، جواب میں کہا، اللہ تعالیٰ قربانی کو بھی متقیوں سے قبول کرتا ہے۔
تقویٰ کے بغیر قربانی قبول نہیں ہوتی
یہ تو ایک واقعہ ہوا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ دن رات ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے جس امر کی طرف توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ متقی کے سوائے کسی کی قربانی بھی قبول نہیں ہوتی، جب تک انسان متقی نہ ہو۔ بہت سی قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جو لوگ دکھا وے کے لئے کرتے ہیں اور بہت سی ایسی ہوتی ہیں، جن میں کوئی ملونی دنیا کی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ایسی قربانیوں کو قبول نہیں فرماتا۔
متقی کون ہے؟
حدیث میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں حلال کر رکھی ہیں وہ بھی بیّن ہیں اور جو حرام کر رکھی ہیں وہ بھی بیّن اور واضح ہیں:
اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ۔
عام طور پر حلال اور حرام دو بیّن چیزیں ہیں اور ان کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی لیکن ان کے درمیان مشتبہ باتیں ہوتی ہیں ۔یہ جائز ہے یا ناجائز؟ تو آپ فرماتے ہیں جو شخص مشتبہ سے بھی بچتا ہے، ایسی چیز سے اجتناب کرتا ہے جس میں اشتباہ ہو وہ اپنے دین کو آلائش سے پاک کر لیتا ہے۔ پھر مثال کے طور فرماتے ہیں، ہرشخص کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے تو بسا اوقات جانور چراگاہ کے اندر بھی چلا جاتا ہے۔ تو فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بھی چراگاہ ہے اس کے آس پاس بھی نہ جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ جس طرح جانور بے احتیاطی سے آس پاس چرتے ہوئے چراگاہ کے اندر چلے جاتے ہیں تمہاری ہواو ہوس تم کو حرام کا مرتکب کر دے۔ یہ حرام چیزیں خدا کی چراگاہ ہیں ان کے پاس پھٹکنے سے بھی بچو۔ اور پھر بڑی صفائی سے ایک اصول بتا دیا۔ آپ کی احادیث میں بھی بڑا بڑا علم ہے فرماتے ہیں
اَ لَا فِی الْجِسْمِ مُضْغَۃٌ اِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّھَا وَاِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّھَا اَ لَا وَھِیَ الْقَلْبُ
دیکھو جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو گیا تو سارا جسم درست ہو گیا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا، دیکھو یہ انسان کا دل ہے۔
دل کو اگر ٹھیک رکھو گے، اگر انسان کے دل کے اندر خدا کی رضا کے حصول کے سوا اور کوئی خواہش نہیں تو وہ قلب اصلاح یافتہ ہے۔ دل کی حکومت تمام عضا پر ہوتی ہے، وہ جدھر اعضاء کو چلاتا ہے، چلتے ہیں۔ پس دل اگر درست ہو جائے تو تمام اعضا درست ہو جاتے ہیں۔
قلب کی اصلاح کا طریق:
قلبِ انسانی کی اصلاح کس طرح ہو؟ اس کے اندر اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خواہش پیدا ہو جائے، اگر اسے محض رضائے الٰہی مطلوب ہو، تو یہ تقویٰ کے لئے ایک بڑا زبردست اصول ہے۔ متقی بننا چاہتے ہو تو پہلے دل کی حالت یہ بناؤ کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خواہش تمام خواہشات پر چھائی ہوئی ہو۔ یہ چیز انسان کو بچا لیتی ہے اور در حقیقت یہ بڑا بلند مرتبہ ہے انسان کو اس کمال پر پہنچانے والا مرتبہ ہے کہ اکثر لوگوں کو خیال بھی نہیں ہوتا کہ انسان کس بلند مقام پر پہنچ سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک شعر ہے
؎
ہر اک نیکی کی جڑھ یہ اتقا ہے
اگر یہ جڑھ رہی تو سب کچھ رہا ہے
ہر نیکی میں تقویٰ کی ضرورت:
خوب یاد رکھو ہر نیکی کے اندر تقویٰ کا ہونا ضروری ہے، ورنہ وہ نیکی کسی کام کی نہیں۔ ایک شخص نماز پڑھتا ہے، بہت نیک کام کرتا ہے، لیکن اگر اس میں دکھا وے کا خیال ہے تو وہ نماز بھی اکارت گئی۔ نیک سے نیک کام کرو، نماز پڑھو، قربانی کرو، خلق خدا کو نفع پہنچاؤ، اگر اس کے ساتھ وہ دل نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خواہش ہو تو تمام نیکیاں بے برکت ہو جاتی ہیں۔
حرام مال خدا کو نہیں پہنچتا:
میں آپ کو اس لئے ان باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ بھی قربانی کرتے ہیں، آپ نماز پڑھتے ہیں یہ بھی ایک قربانی ہے۔ ایک ابتلاء کے وقت سچائی کو ہاتھ سے نہیں دیتے، یہ بھی قربانی ہے۔ بیمار بھائی کی عیادت کرتے ہیں، کسی دکھ تکلیف میں پڑے ہوئے بھائی کی حاجت بواری کر دیتے ہیں، یہ سب قربانیاں ہیں۔ اور وہ بھی قربانی ہے جو یہ جماعت کر رہی ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے، خدا کے دین کو دنیا میں پہنچانے کے لئے اپنے اموال خرچ کرتی ہے۔ تو خوب یاد رکھو بلا شبہ یہ قربانی تو ہے لیکن جب تک اس کے ساتھ تقویٰ نہیں، یہ قبول نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ میں مال کما لوں خواہ کسی ذریعہ سے ہو، چوری کروں، اپنے بھائی کی حق تلفی کروں اور پھر اس مال میں سے خدا کے رستہ میں بھی خرچ کروں تو یاد رکھیئے کہ خدا کے نزدیک یہ سب ہیچ ہے۔ اور باتوں میں تو شاید کچھ حاصل بھی کر لے لیکن حرام مال خدا کی طرف نہیں جا سکتا۔ خدا صرف حلال کمائی خرچ کرنے سے قبول کرتا ہے۔ تو اگر قربانیاں کرتے ہو تو خوب یاد رکھو کہ خدا صرف حلال مال کی قربانی کو قبول کرتا ہے۔ صرف تقویٰ سے دیا ہوا اور تقویٰ سے کمایا ہوا مال اس کے ہاں مقبول ہے۔
رشوت کے روپیہ کو خدا قبول نہیں کرتا:
یہ آج جو ہمارے سامنے ہو رہا ہے، اس سے بچنا بھی بڑا مشکل امر ہے، ملازموں کے لئے رشوت چھوڑنا بھی مشکل ہے۔ چوری اور ڈاکہ تو بہت گری ہوئی حرکات ہیں، لیکن عام طور پر سرکاری ملازمین کے لئے یہ بہت مشکل ہو رہا ہے کہ اپنے اخراجات کو کم کر کے رشوت لینا چھوڑ دیں۔ اس لئے اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں اور اس میں سے خدا کے رستہ میں دیتے ہیں، تو خدا اس کو قبول نہیں کرتا، حلال مال کماؤ، اور اس میں سے دو۔ اس سے تمہارے مال میں بھی برکت ہو گی اور جس کام کے لئے دو گے اس میں بھی برکت ہو گی، نیکی اور تقویٰ نرا روپیہ خرچ کرنے سے ہی نہیں ملتا اس کے لئے رستہ اور ہے۔
بلیک مارکیٹ کا روپیہ بھی قابلِ قبول نہیں:
اسی طرح ایک تاجر کے لئے بلیک مارکیٹ سے بچنا مشکل ہے۔ شاید بعض لوگوں کا خیال ہو کہ اس طریق سے مال کو کما کر پاکستان کی مدد کریں گے، کوئی خیرات کر دیں گے، یا کچھ خدا کے نام پر خدا کا نام بلند کرنے پر صَرف کر دیں گے، تو خوب یاد رکھو کہ خدا دلوں کو جاننے والا ہے:
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ
جماعت کے لئے دو مشکلات:
ہماری جماعت کے لئے دو مشکلیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ حرام سے بچیں، یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے آس پاس بھی نہ جائیں اور صرف حلال کمائی پر گزر اوقات کریں۔ تو ایک مشکل تو یہ ہے کہ کمائی محدود ہو گی اور دوسری مشکل یہ ہے کہ اس تھوڑے میں سے بھی خدا کے نام پر دینا ضروری ہے۔ لیکن انسان کے عزم کے سامنے تمام مشکلیں دور ہو جاتی ہیں، خدا حلال مال میں بھی وسعت دے سکتا ہے اور دیتا ہے۔ تکلیف اٹھا کر اگر حلال روزی میسر آجائے اور اس میں سے خدا کی راہ میں بھی دیا جائے تو خدا بھی خوش ہوتا ہے اور کمائی میں بھی برکت ہوتی ہے۔
حلال روزی کماؤ اور پھر خدا کے نام پر دو:
چونکہ ایک خطرناک ہوا چلی ہوئی ہے اور ہماری جماعت میں سے بعض لوگ سرکاری ملازمت میں بھی ہیں، بعض تاجر بھی ہیں۔ اس لئے میں ان سے کہتا ہوں کہ دیکھو یہ خیال نہ کرنا کہ چلو رشوت لے کر بلیک مارکیٹ کر کے خدا کے نام پر دیں گے۔ اپنے نفسوں کو روکو، خدا کی رضا کو مد نظر رکھو، حرام کے نزدیک بھی نہ پھٹکو، بچو اور حلال روزی کماؤ، خواہ وہ تھوڑی ہو۔ اور باوجود اس کے جب تمہارا ہاتھ بھی تنگ ہو، تو اس وقت خدا کے نام پر بھی دو۔
صحابہ کرامؓ کی قربانیاں:
تاریخ کو دیکھ لو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں دولت مند بہت کم تھے، وہ بھی اپنی حسبِ حیثیت خرچ کرتے تھے۔ اور زیادہ حصہ غربا کا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کے لئے اپیل کرتے تو ایک غریب آدمی جس کے پاس کچھ نہ ہوتا بازار جا کر کچھ محنت مزدوری کرتا اور چار پیسے کما کر دو صدقہ میں دے دیتا اور دو اپنے اوپر خرچ کر لیتا۔ بڑی غربت کی حالت میں اس قوم نے پرورش پائی، مگر مال کے لحاظ سے اگر وہ غریب تھے تو کیرکٹر اور اخلاق کے لحاظ سے بہت بلند تھے، انہوں نے اپنی حلال کی کمائیاں خدا کے رستہ میں دیں، اور خدا نے انہیں وہ بلند مقام دیا جہاں پہنچنا مشکل ہے۔
امامِ وقت سے تعلق کی غرض:
بعض وقت انسان اپنے لئے خود مصیبت پیدا کر لیتا ہے۔ چھوٹی سی تکلیف کو بہت بڑا بنا لیتا ہے اور اس کے لئے جب جائز راہ نہ ملے تو ناجائز رستے تلاش کر لیتا ہے۔ لیکن اس سے تکلیف رفع نہیں ہوتی۔ یوں تو بڑے بڑے گھر بھی تکالیف اور مشکلات سے خالی نہیں، جو لوگ بڑے بڑے دولتمند نظر آتے ہیں ان کو بڑے بڑے دکھ ہوتے ہیں، حتیٰ کہ دولت ان کے لئے وبال جان ہو جاتی ہے۔ اس لئے یہ خیال کرنا کہ زیادہ کمانے اور حرام کے رستہ سے دولت جمع کرنے سے آرام اور آسائش میسر آئے گا صحیح نہیں۔ میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ امامِ وقت (حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ) کے ساتھ جو تعلق انہوں نے قائم کیا ہے وہ ایک بات سیکھنے کے لئے قائم کیا ہے کہ خدا کی رضا حاصل ہو جائے۔ اور یاد رکھو حرام خوری سے خدا کی رضا کسی طرح نہیں ملتی۔ خدا کی رضا اس وقت ملتی ہے جب اپنا حلال مال بھی اس کے رستہ میں دے دو۔
پہلے اپنی اصلاح کرو:
ہاں، ایک شخص حرام مال کماتا ہے اور پھر تائب ہو جاتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عفو بڑا وسیع ہے۔ اگر وہ پچھلی کمائی کو خدا کے رستے میں دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے۔ لیکن اس کے سوائے کبھی مت خیال کرو کہ ہم کمائیں اور جائز وناجائز طریقوں سے کما کر خدا کے رستہ میں دے دیں تو خدا خوش ہو جائے گا۔ پہلے تم اپنے آپ کو بناؤ۔ دنیا کو ہم نے کیا بنانا ہے، اگر ہمارا اپنا قدم پھسل جاتا ہے۔ ہم نے دنیا کی اصلاح کیا کرنی ہے اگر ہم خود اصلاح یافتہ نہیں۔
قربانی میں دنیا کی ملونی نہ ہو:
دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب خدا کے رستہ میں قربانی کریں تو دنیا کی ملونی اس کے ساتھ نہ ہو۔ ہم بڑے سمجھے جائیں، ہمیں لوگ ایسا اور ویسا شخص سمجھیں ۔ یہ قربانی کو ضائع کرنے والی چیز ہے۔ اگر یہ کام آپ نے کرنا ہے تو خاک ہو کر کرو گے تو پھل پائو گے۔ ورنہ اگر کوئی بھی دنیا کی شہرت یا عزت کی خواہش اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو خوب یاد رکھو کہ اس قربانی کو تم ضائع کر لو گے۔
ہماری ادنیٰ قربانیوں کی قبولیت:
میں تحدیث بالنعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ وہ جو فرمایا:
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ
تو خدا کی قبولیت کے آثار اس دنیا میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جو کام اس وقت تک آپ نے کیا ہے اس کو قبولیت بھی خدا نے بڑی دی ہے۔ شائد ہماری قربانیاں اتنی نہیں جتنی خدا نے قبولیت عطا فرمائی ہے۔
اپنے مال کو خدا کا مال سمجھو:
یہ قبولیت ہرگز نہیں ملتی جب تک انسان اپنے خیال کو اس نقطہ پر نہیں لے آتا کہ یہ میرا مال نہیں خدا کا مال ہے۔ تم اپنے اخراجات پر غور کرو اور سوچو کہ میں خدا کے مال کو ضائع تو نہیں کر رہا؟ پھر اس وقت جو کچھ تم خرچ کرو گے، خواہ وہ بیوی بچوں کے لئے ہو، صدقہ اور خیرات ہی سمجھا جائے گا۔ تم اپنی بیوی، اپنے بیٹے اور اپنے والدین، اپنے عزیزو اقارب پر جو کچھ خرچ کرو گے وہ خدا کی رضا کے لئے ہو گا۔ وہی صدقہ بن جائے گا یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے مونہہ میں ڈالتے ہو وہ بھی صدقہ ہو گا۔
اچھا اور سستا سودا:
دیکھئے کس قدر آسان ہو جاتا ہے جو کچھ تم کماتے ہو وہ سب خدا کا ہے۔ کیوں خدا کا ہے؟ اس لئے کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ خدا کے عبد ہو، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی عبد ہونے کا اقرار کرتے ہو۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
تو تم نے اپنے آپ کو عبد کے مقام پر کھڑا کر کے اس بات کا اقرار کر لیا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خدا کا مال ہے۔کیونکہ عبد اور غلام کی کمائی اس کے مالک کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ تو کماؤ اور خوب کماؤ، حلال ذریعوں سے کماؤ اور اسے خدا کا مال سمجھ کر خرچ کرو۔ بے شک اپنے نفس پر خرچ کرو۔ اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرو، اپنے والدین اور عزیزو اقارب کے لئے خرچ کرو۔ یہ سب صدقہ ہوجاتا ہے۔ اچھا سودا ہے کہ خرچ کریں ، بیوی بچوں اور عزیز و اقارب کے لئے۔ اور وہ صدقہ سمجھا جائے، خدا کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔ کتنا سستا سودا ہے۔ یہ سودا خدا سے کرنا چاہئیے۔ جہاں خدا کے رستہ میں خرچ کرنے کی ضرورت پیش آئے، وہاں خدا کے رستہ میں خرچ کرو۔ کماؤ تو دیکھ لو کہ ناجائز نہ ہو اور خرچ کرو تو دیکھو کہ بے جا نہ ہو۔
دعوتوں اور شادیوں کے اخراجات:
آج غریب آدمی بھی بہت اسراف کرتے ہیں، اپنے مال کو بے جا ضائع کرتے ہیں۔ دعوتوں اور شادیوں پر بے شمار روپیہ یونہی خرچ ہو جاتا ہے۔ یہ نہ کریں تو ناک کٹ جائے گی، وہ کام نہ کریں تو دنیا میں عزت نہیں رہے گی۔ یہ کوئی اچھا طریق نہیں۔ خدا اس سے خوش نہیں ہوتا، بلکہ یہ خدائی ناراضی کا موجب ہے۔
دین کے معاملہ میں دنیا کی رہنمائی:
ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ لوگوں نے تھوڑا سا مال خدا کے رستہ میں خرچ کیا۔ یہ چھوٹی سی جماعت جو تعداد اور دولت کے لحاظ سے:
اَلنَّادِرُ کَالْمَعْدُوْمِ
کے حکم میں ہے اور ان میں سے بھی چند ایسے ہیں جو اپنے آپ کو اس مقام پر لے آئے ہیں جہاں خدا کے رستہ میں قربانیاں کرنا ان کے لئے مشکل نہیں۔ اس جماعت نے دین کے معاملہ میں اور اخلاق کے معاملہ میں دوسروں کی رہنمائی کی ہے۔ باقی چیزوں کو تو میں رہنمائی سمجھتا نہیں۔
سیاسی اقتدار رہنمائی کا موجب نہیں:
آج اپنے اقتدار کے لئے، اپنی لیڈری کے لئے لوگ لڑ رہے ہیں۔ اقتدار کی ہوس میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔ وزارتیں بن اور ٹوٹ رہی ہیں۔ بڑے بڑے مسلمان باہم لڑ کر اپنی طاقت کو برباد کر رہے ہیں، مال کو برباد کر رہے ہیں۔ اس لئے سیاسی اقتدار یا لیڈری کا حصول کسی رہنمائی کا موجب نہیں۔ اصل رہنمائی وہ ہے جو آپ لوگوں نے کی، آپ نے خدا کا نام بلند کرنے کے لئے تھوڑا سا خرچ کیا۔
ہماری قربانیوں نے دنیا کے خیالات بدل دیئے:
آپ اس وقت دین اور اخلاق کے رنگ میں دنیا کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ کوئی دوسری جماعت ایسی نہیں جس کو یہ فکر ہو کہ خدا کا نام کس طرح بلند ہو۔ اعلائے کلمۃ اللہ دنیا میں کس طرح ہو۔ یہ دنیا فسق وفجور سے کیسے پاک ہو۔ ظلم وفساد کس طرح ختم ہو۔ یہ فکر اسی جماعت کو ہے اور کسی کو نہیں۔ اور اس جماعت کی تھوڑی سی قربانی اور کوشش نے دنیا کے خیالات کو ایک حد تک بدل دیا ہے، یہاں تک کہ جہاں جماعت نہیں گئی وہاں بھی کسی نہ کسی ذریعہ سے آپ کی کتابیں اور آپ کا لٹریچر پہنچ چکا ہے اور وہ اس سے متاثر ہیں۔
جماعت کا لٹریچر اور اس کی قبولیت:
اس سارے لٹریچر کو دیکھ لیں۔ حضرت خواجہ کمال الدین مرحوم نے کتابیں لکھیں اور اپنے علم کا کچھ تھوڑا سا حصہ ان کے اندر جمع کر دیا۔ کس قدر دنیا کی رہنمائی اس سے ہوئی۔ مولیٰنا محمد یعقوب خاں صاحب کے پیدا کئے ہوئے لٹریچر سے کس قدر فائدہ دنیا نے اٹھایا، مولیٰنا عبدالحق صاحب کی کتابیں کس قدر ہدایت کا موجب ہوئیں اور بھی اس جماعت کے کئی لوگوں کی تحریرات نے بہت فائدہ پہنچایا اور بڑی مقبولیت خدا نے اسے دی۔
ہمت کرو اور قدم بڑھاؤ:
دیکھ لیجئے جس نے کوئی کام کیا خدا نے اس کو قبولیت دی۔ اور اگر آپ نے اور قدم بڑھایا کچھ تھوڑی سی کوشش کر کے اپنے لٹریچر کو دنیا میں پہنچایا تو آپ دیکھیں گے کہ اس سے کس قدر خیالات پر اثر پڑتا ہے۔ لوگ خود آپ کی کتابیں چھپوائیں گے اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کی ان کتابوں سے دنیا میں خدا کا نام بلند ہو رہا ہے، ہمت کرو اور قدم بڑھاؤ اور خیال رکھو کہ:
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ
تھوڑا کماؤ ، حرام اس میں نہ ملاؤ۔ خود بھی کھاؤ اور خدا کا بھی حصہ دو، تو یہ تھوڑی تھوڑی قربانی بڑی قبولیت کی موجب ہوگی۔ اب بھی خدا اس کو بڑی قبولیت دے رہا ہے۔ اس رنگ میں بھی کہ اس سے لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر اس رنگ میں کہ اسلام کے متعلق ان کے خیالات میں بڑا انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔
ایک امریکن نوجوان کی خدمتِ اسلام:
ابھی امریکہ میں ایک جوشیلا نوجوان مسلمان ہوا ہے۔ بڑا قابل آدمی ہے۔ یہ اب معلوم ہوا کہ اس کی عمر صرف ۱۶ سال ہے۔ اور یہ اس بنچ کے عزیزں میں سے ہے جو آج کل فلسطین میں ثالث کا کام کر رہا ہے۔ اسی طرح جگہ جگہ یہ لٹریچر لوگوں کی ہدایت کا موجب ہو رہا ہے۔
تقویٰ کو بڑھائیں اور قربانیاں کریں:
یہ تو نظر آرہا ہے کہ تھوڑے ہمت والے ہوں گے جو اپنے مذہب کو چھوڑ کر اعلانیہ مسلمان ہو جاتے ہیں، لیکن ہزاروں اور لاکھوں کے خیالات کو ہمارے اس لٹریچر نے بدل دیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کے دلوں میں عزت پیدا ہو رہی ہے:
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ
آپ اپنے تقویٰ کو بڑھائیں، خدا کے پاس بہت کچھ ہے اور بہت دے گا اور پیچھے آنے والے لوگ تعجب کریں گے کہ یہ کیا قربانیاں تھیں جن پر خدا نے اس قدر افضال نازل کئے!
(پیغام صلح، ۱۹ جنوری۱۹۴۹ء، صفحہ ۵، ۶ اور ۱۲)

